پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اہم ملک میں پاکستانی انجینئر اغواء،رہائی کے بدلے چین سے متعلق حیرت انگیز مطالبہ کردیاگیا

datetime 20  مارچ‬‮  2017 |

خرطوم /لندن(آئی این پی)جنوبی سوڈان کے باغیوں نے پاکستانی انجینئر سمیت آئل کمپنی کے 4ملازمین کو اغواء کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مغویوں کی رہائی کے بدلے ملک میں کام کرنے والی چینی اور ملائیشین کمپنیوں کونکالنے کا مطالبہ کردیا۔برطانوی خبررساں ادارے ’’رائٹرز‘ ‘ کے مطابق جنوبی سوڈان کے باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک پاکستانی انجینئر سمیت4آئل ورکرز کو اغواء کرلیا ہے اور انکی رہائی کیلئے ملک

میں کام کرنے والے چینی اور ملائیشین کنسورشیم کو نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔سابق صدر رائیک ماچار کے وفادار جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈی اے آر پٹرولیم آپریٹنگ کمپنی کے 4ملازمین کو بالائی نیل ریاست سے ہفتے کو اغواء کیا تھا جبکہ تیل کے کارکنوں کے دوسرے گروپ کو اس ماہ اغواء کیا گیا ہے ۔ڈی اے آر، چائینہ نیشنل پٹرولیم کارپوریشن(سی این پی سی ) اور چین کی سائنوپیک اور ملائیشین پٹروناس کی جانب سے فوری طورپر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جنوبی سوڈان میں ایک پٹرولیم کمپنی میں ملازمت کرنے والے پاکستانی شہری ایاز حسین جمالی کے اغوا کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔بدین کے رہائشی انجینئر ایاز حسین جمالی کے رشتے داروں کا کہنا تھاکہ ایاز کو جنوبی سوڈان میں باغیوں نے اغوا کرلیا ہے۔ایاز جمالی کے رشتے داروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ایاز کا چھوٹا بھائی بابر جمالی بھی جنوبی سوڈان میں موجود ہے اور اس نے اہل خانہ کو مطلع کیا ہے کہ ایاز جمالی کو ایک ہفتے قبل اغوا کرلیا گیا ہے۔ایاز جمالی کے اہل خانہ نے میڈیا کے توسط سے وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو جنوبی سوڈان میں موجود پاکستانی سفیر کے ساتھ اٹھائیں اور اس کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔اطلاعات کے مطابق اغوا ہونے والا پاکستانی انجینئر ڈار پٹرولیم آپریٹنگ کمپنی کا ملازم تھا تاہم اغوا کے واقعے کی پاکستانی

حکام اور دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔واضح رہے کہ جنوبی سوڈان میں ہی دو بھارتی انجینئرز کو بھی گزشتہ ہفتے باغیوں نے اغوا کرلیا تھا اور یہ دونوں انجینئرز بھی ڈار پٹرولیم کے ملازم تھے۔اغوا کاروں نے بھارتی انجینئرز کی رہائی کے لیے 10 لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا تھا تاہم جنوبی سوڈان کی حکومت نے تاوان ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…