حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے اصلاحی خطاب میں ایک سچا واقعہ سنایا کہ ایک دوست لندن میں تھے وہ ملازمت کیلئے ایک جگہ انٹرویو دینے کے لیے گئے اس وقت ان کے چہرہ پر داڑھی تھی جو شخص انٹرویو لے رہا تھا اس نے کہا کہ داڑھی کے ساتھ یہاں کام کرنا مشکل ہے اس لیے یہ داڑھی ختم کرنی ہوگی اب یہ بڑے پریشان ہوئے کہ میں اپنی داڑھی ختم کروں یا نہ کروں؟
اس وقت تو وہ واپس چلے آئے اور دو تین دن تک دوسری جگہوں پر ملازمت تلاش کرتے رہے لیکن دوسری جگہ ملازمت نہیں ملی اس لیے پریشان تھے بالآخر انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ چلو داڑھی کٹوا دیتے ہیں تاکہ ملازمت مل سکے چنانچہ اس شخص نے داڑھی کٹوا دی اور اسی جگہ ملازمت کیلئے پہنچ گیا جب وہاں پہنچا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟اس نے جواب دیا کہ آپ نے کہا تھا کہ داڑھی کٹوا دو تو تمہیں ملازمت مل جائی گی اس لیے میں داڑھی کٹوا آیا ہوں اس نے پوچھا کہ آپ مسلمان ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں میں مسلمان ہوں اس نے پوچھا کہ آپ داڑھی کو ضروری سمجھتے تھے یا غیری ضروری؟اس نے کہا ضروری سمجھتا تھا اور اسی وجہ سے رکھی تھی اس نے کہا جب آپ جانتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت داڑھی رکھی تھی اور اب آپ نے صرف میرے کہنے پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑ دیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے وفادار نہیں اور جو شخص اپنے رب کا وفادار نہ ہو وہ اپنے افسر کا بھی وفادار کبھی نہیں ہوسکتا لہذا اب ہم آپ کو ملازمت پر رکھنے سے معذور ہیں۔



















































