میرا کسی بات پر اپنے والد سے کچھ ایسا اختلاف ہوا ۔ میرے ہاتھ میں کچھ درسی کاغذات تھے جو میں نے غصے میں ان کے سامنے میز پر پٹخے اور دروازہ دھڑام سے بند کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گیا۔بستر پر گر کر، ہونے والی اس بحث پر ایسا دماغ الجھا کہ نیند ہی اڑ گئی۔ صبح یونیورسٹی گیا تو بھی دماغ کل والے واقعے پر اٹکا رہا۔ ندامت اور خجالت کے مارے دوپہر تک صبر جواب دے گیا، میں نے موبائل نکالا اور اپنے
اباجی کو پیغام بھیجا:میں نے کہاوت سن رکھی ہے کہ پاؤں کا تلوہ پاؤں کے اوپرے حصے سے زیادہ نرم ہوتا ہے، گھر آ رہا ہوں، قدم بوسی کرنے دیجئے گا ۔میں جب گھر پہنچا تو ابا جی صحن میں کھڑے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، اپنی نمناک آنکھوں سے مجھے گلے سے لگایا اور کہا: قدم بوسی کی تو میں تمہیں اجازت نہیں دیتا، تاہم کہاوت بالکل سچی ہے کیونکہ جب تم چھوٹےتھے تو میں خود جب تیرے پاوں چوما کرتا تھا تو مجھے پاؤں کے تلوے اوپر والے حصے سے زیادہ نرم لگا کرتے تھے۔ یہ سن کر رونے کی اب میری باری تھی۔



















































