ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

عروج اماں کے جانے سے رخصت ہو گیا

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہوئی،میرے سسر دو بڑی ٹیکسٹائل ملز کے مالک تھے،دولت کی ریل پیل تھی،دنیا کی ہر آسائش میسر تھی۔میرے شوہران کی اکلوتی اولاد تھے۔میں اپنی قسمت پر نازاں تھی۔کتنی لڑکیاں ہیں جن کی ایسے خواہشات پوری ہوتی ہیں۔

اس گھر میں ہم چار لوگ تھے؛ایک سسر،ایک میرے شوہر، ایک میں اور۔جی ہاں! ایک میرے سسر کی دور دراز کی کافی عمر رسیدہ خاتون تھیں۔میرے شوہر کا کہنا تھا کہ ان کی اولاد نے ان کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیااور پھر میرے سسر انھیں گھر لے آئے۔عمر ستر اسی کے لگ بھگ تھی۔خاموش فطرت تھی لیکن بس! مجھے ان سے چِڑ سی تھی،مجھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ میری راجدہانی میں وہ ایک بوجھ ہیں،میرے سپنوں کے محل میں بدنما داغ ہیں۔میں دبے دبے لفظوں میں اپنے شوہر سے ان کو گھر سے نکالنے کا کہتی،لیکن یہ تو میرے سسر کا فیصلہ تھا۔میرے شوہر کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں دولت کی ریل پیل اور برکات،اماں کو پناہ دینے کے بعد شروع ہوئیں اور ابو کبھی بھی یہ بات نہیں مانیں گے۔پھر اچانک میرے سسر کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا۔میرے شوہر تمام دولت کے تن تنہا وارث بن گئے اور میں اس عظیم وراثت کی ملکہ عالیہ بن گئی۔میرے ناز دیکھنے والے تھے۔زمین پر تو میرے پاؤں ہی نہیں پڑتے تھے۔کچھ دن بعد جب خمار کم ہوا تو روز شوہر کے کان بھرتی جو رفتہ رفتہ جھگڑوں میں تبدیل ہوگئے اور ایک دن شوہر نے بھی میرے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔میں نے اگلے دن صبح اماں کو صاف صاف جواب دے دیا،وہ خاموش تھیں لیکن آنکھوں میں آنسو تھے۔پھر وہ کچھ بتائے بغیر گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔

میرا اور اْ ن کا کوئی مقابلہ نہ تھا لیکن میں یہ یکطرفہ مقابلہ جیت چکی تھی اور فتح کے نشہ سے سرشار تھی۔ ہفتہ ہی گزرا تو میرے شوہر انتہائی پریشان گھر آئے۔معلوم یہ ہوا کہ میرے سسر پر کافی بینک قرضہ تھا،اس کے علاوہ لوگوں کا ادھار بھی تھا۔چائنہ کا ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مقابلے میں آنے سے کاروبار بھی کافی متاثر تھا۔جلد ہی ایک فیکٹری بیچنی پڑ گئی لیکن میرا دل اب بھی مطمئن تھا کہ کاروبار میں اتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں۔

مہینہ ہی گزرا تھا کہ دوسری فیکٹری بھی بیچنی پڑ گئی۔بینک نے اپنے قرضہ کے بدلہ مکان فروخت کروا دیااور ہم ایک چھوٹے کرائے کے مکان میں منتقل ہوگئے۔ یرے شوہر نے بچی کھچی آمدنی سے ایک چھوٹا سپننگ یونٹ خرید لیااور اس طرح زندگی کا پہیہ چلنا شروع ہوا۔میری سب شاہانہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔مجھے احساسِ جرم نے گھیر لیا،میں نے ایک بے بس،لاچار اور ضعیف عورت کو بے گھر کیا،

میرا اپنا سپنوں کا محل بکھر کر رہ گیا۔اور یہ زوال اماں کے جانے کے بعد ہی شروع ہوا۔مجھے اپنے سسر کی بات درست معلوم ہونے لگی۔جس طرح عروج اماں کے آنے سے شروع ہوا تھا،اسی طرح اماں کے جانے سے رخصت ہوگیا تھا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…