ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک صحابی آپ ؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آتے ہی اپنے پڑوسی کی شکایت کی کہ میرا پڑوسی پورا دن گھر میں شور شرابہ کرتا ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔آپؐ اس کو منع کردیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کی بات سنی اور فرما کہ آپ گھر جاؤ اور جب دیکھو کے آپ کے پڑوسی نے شور شرابہ پھر شوروع کردیا ہے
تو اپنے گھر کا سارا سامان باہر نکال کر اپنے دروازے کے آگے رکھ کر بیٹھ جاؤاور جو کوئی گزرنے والا وجہ پوچھے تو اپنے پڑوسی کے شور شرابے کا ذکر کرنا۔چنانچہ وہ صحابی گھر کو چلا گیا اور جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا تو شور پھر شروع ہوا،اس صحابی نے اسی وقت اپنے گھر کا سارا سامان باہر نکال کر اپنے دروازے کے آگے رکھ دیا اور پھر بیٹھ گیا اب جو بھی وہاں سے گزرے تو وہ حیران ہوکر اس سے پوچھتا کہ بھائی آپ نے اپنے گھر کا سامان باہر کیوں رکھ دیا ہے ؟وہ صحابی جواب میں کہتا ہے کہ بھائی کیا کروں میرا پڑوسی شور اتنا مچاتا ہے کہ مجھے اپنے گھر کا سارا سامان باہر لاکر رکھنا پڑ تاکہ مجھے تکلیف نہ ہو،وہ بندہ پڑوسی کو برا بھلا کہتا ہوا وہاں سے چلا جاتا ۔یہ ماجرہ پڑوسی بھی گھر کے اندر سے دیکھتا ہے مگر وہ چپ رہتا ہے، جب شام تک یہ سلسلا بڑھ جاتاہے اور ہر کوئی پڑوسی کو برا بھلا کہتا ہوا وہاں سے گزرتا ہے تو پڑوسی یہ سب دیکھ کر کافی شرمندہ ہو جاتا ہے.اور باہرآکر اس صحابی سے معافی مانگتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے کہ آئندہ شور شرابہ نہیں کرے گا اور اس صحابی سے التجاء کرتا ہے کہ یہ سامان اپنے گھر کے اندر لے جاؤ۔صحابی بھی اس کی بات مان لیتا ہے اور وہ پڑوسی کی مدد سے اپنا سامان واپس گھر کے اندر رکھ لیتا ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زہانت کی بدولت ایک بڑا مسئلہ بخیروعافیت حل ہو جاتا ہے۔



















































