رحمت عالم ﷺجب اپنے یار غار حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ ام معبد کے دروازے پر پہنچے، کہا ،میرے یار کو بھوک لگی ہے کیا کچھ کھانے کو مل سکتا ہے، ام معبد کہتی ہیں اتنا حسین چہرہ ،ایسا بابرکت چہرہ کہ جس نے سارے گھر کے در و دیوار روشن کر دیے، کہا بیٹا گھر میں کچھ نہیں بکریاں چرنے کے لیے گئی ہیں،
سراج منیر کی نظر صحن میں بندھی ایک لاغر بکری پر پڑی، فرمایا !اماں اگر اجازت دو تو اس کا دودھ دھو لیں، ام معبد کہتی ہیں اس نے تو ایک عرصہ ہوا دودھ دینا چھوڑ دیا ہے، کہا اماں تو اجازت تو دے، اسے کیا پتا آج اس کے گھر کون آیا ہے، اسے کیا پتہ کہ یہ جہاں جاتے ہیں رب کی رحمتیں ساتھ جاتی ہیں،ام معبد بیان کرتی ہیں اتنے خوبصورت چہرے کے اصرار پر انکار کی جرأت نہ ہوئی، کہا ٹھیک ہے بیٹا دیکھ لو اگر دو چار دھاریں دودھ کی نکل آئیں، پاک پیغمبر ﷺکے مبارک ہاتھوں نے بکری کے تھنوں کو چھوا،ہاں وہی مبارک ہاتھ جو اٹھتے تو ابر رحمت برسنے لگتا، جو مبارک انگلی اٹھتی تو چاند کٹنے لگتا ،جو مبارک انگلی پھرتی تو بادل پھٹنے لگتا، یوں محسوس ہوا بکری کو انہی ہاتھوں کے چھونے کا انتظار تھا، فرمایا اماں برتن لاؤ، ام معبد چھوٹا سا برتن اٹھا لائی، وہ بھر گیا، کہا اور برتن لاؤ حتی کہ گھر کے سبھی برتن دودھ سے بھر گئے، وہ بکری رحمت عالم ﷺکے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرنے کے بعد اٹھارہ سال زندہ رہی،لیکن کبھی اس کا دودھ خشک نہ ہوا۔



















































