ایک صاحب زادے نے نیا نیا حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ ایک روز استاد نے “اوسط کا قاعدہ” بتایا، انہوں نے اسے رَٹ لیا۔ شام کو گھر گئے تو گھر والے نہر پار جانے کی تیاری کیے ہوئے تھے۔ یہ حضرت بھی ساتھ ہولیے۔ نہر کے کنارے پہنچنے پر گھر والوں نے کشتی تلاش کرنی شروع کی۔
یہ صاحب زادے چونکہ اوسط کا قاعدہ پڑھ چکے تھے، جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ نہر کناروں سے دو دو فٹ اور درمیان میں آٹھ فٹ گہری ہے تو فوراً دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو تین پر تقسیم کر دیا، جواب آیا “اوسط گہرائی 4 فٹ”۔اس قاعدے سے تو نہر کی گہرائی بالکل کم تھی۔ اس لئے انہوں نے خوشی خوشی گھر والوں کو بتایا کہ، “کشتی کا کرایہ بچ جائے گا، اور ہم بغیر کشتی کے بھی نہر پار جا سکتا ہیں۔ میں نے مکمل حساب لگا کر دیکھ لیاہے، اس نہر کی اوسط گہرائی چار فٹ ہے، اِس لیے بے فکر ہو جائیں۔۔۔!یہ سن کر گھر والے بغیر کشتی کے نہر پار کرنے کو تیار ہو گئے، اور پورا کنبہ بمعہ ساز و سامان نہر میں کود پڑا اور نہر کے بیچوں بیچ پہنچ کر آٹھ فٹ گہرے پانی میں سب ڈبکیاں لینے لگے۔ راہ گزرتے لوگوں نے بڑی مشکل سے کشتی والوں کے ساتھ مل کر انہیں بچایا۔صاحب زادے پانی میں شرابور کنارے پر پہنچے تو دوبارہ حساب جوڑا، وہی جواب آیا “4 فٹ۔۔!”، پریشان ہو کر بولے۔۔۔!! “یار! حساب جوں کا توں۔۔۔ پر کنبہ ڈوبا کیوں۔۔۔!!؟”



















































