سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی اور کہا کہ آپ کا نالائق بھتیجا میرے گھر میں گھس آتا ہے میری گھر پر جوان بیٹی ہے اور میں ایک غریب عورت ہوں۔بادشاہ سلطان محمود غزنوی نے کہا اب کی بار جب وہ آئے تو تم فوراً مجھے اطلاع کرنا
(ساتھ ایک کوڈورڈ دیا کے اس طریقے سے تم میرے پاس جلد پہنچ سکو گی بغیر کسی حیل و حجت کے۔وہ عورت چلی گئی دو تین دن بعد وہ عورت آپ کے پاس آئی اور کہا کے وہ میرے گھر میں گھس آیا ہے۔رات کا وقت تھا آپ نے تلوار اْٹھائی اور اس عورت کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گئے۔آپ نے گھر میں داخل ہوتے ہی اس عورت سے کہا چراغ گْل کر دو۔اس عورت نے ایسا ہی کیا آپ گئے اور اس نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا اور اس عورت کو کہا پانی لاؤ وہ پانی لے آئی تو آپ نے پانی پیا اور اسے کہا اب چراغ جلا دو۔اس نے چراغ جلایا تو سلطان نے لاش کو دیکھ کر کہا الحمدللہ۔اس بوڑھی عورت نے پوچھا کہ آپ کے تین عمل کی مجھے سمجھ نہیں آئی ،آپ نے گھر آتے ہی کہا چراغ گل کر دو، جب اسے مار دیا تو پانی منگوایا اور پیا اور آخر میں لاش دیکھ کر الحمدللہ کہا۔ بادشاہ نے بہت منع کیا لیکن عورت کے بہت اسرار پر بادشاہ نے بتایا کہ میں نے چراغ گْل اس لیے کروایا کہ کہیں اپنا رشتہ دیکھ کر میرے دل میں رحم نہ آ جائے اور میں اسے مارنے سے رْک نہ جاؤں۔میں نے لاش کو دیکھ کر الحمدللہ کہا کہ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے خاندان کا خون گندہ نہیں ہوا ،میں اس سوچ میں تھا کہ بادشاہ سلطان محمود غزنوی کا بھتیجا ہو اور یہ کام کرے میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ یا اللہ تیرا شکر ہے وہ میرے خاندان سے نہیں تھا وہ صرف میرے خاندان کا نام استعمال کر رہا تھا۔
عورت نے تیسری بات پوچھی تو بادشاہ نے کہا یہ نہ پوچھ۔عورت نے بہت زد کی تو سلطان نے کہا تو پھر سْن جس دن سے تم نے مجھے بتایا تھا اس دن سے آج تک میں نے نہ کھایا ہے نہ پیا ہے اور یہ کہا تھا کہ جب تک اسے اس کے کردار کے انجام تک نہ پہنچا لوں تب تک کچھ نہیں کھاؤں پیؤں گا۔اب جب میں نے اسے اس کے انجام تک پہنچا دیا تو میرا حق بنتا تھا کہ دو گھونٹ پانی پی لوں۔



















































