ماما قادر کہتے ہیں کہ ان کی پرانی حویلی میں ایک ٹام اور کچھ جیریز رہتے تھے۔ آسان الفاظ میں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ایک بلی اور کچھ چوہے رہتے تھے۔ بلی آہستہ آہستہ چوہوں کی نسل کشی کرتی رہی حتی کہ صرف ایک چوہا بچ گیا۔بلی بہت دن اس کے بل کے آس پاس گھومتی رہی مگر چوہا بل سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
آخر ایک دن ڈرتے ڈرتے چوہے نے بل میں سے جھانکا تو بلی سجدے میں گر گئی اور آہ و فغاں شروع کر دی۔ یا خدا میں نے بہت معصوموں کا خون بہایا ہے۔ میں بہت گنہگار ہوں مجھے معاف کردے۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ بھوک سے مر جاؤں گی مگر کسی بے گناہ کا خون نہیں بہاؤ ں گی۔روتے روتے آنکھیں کھولیں اور چوہے سے کہا کہ تو بھی مجھے معاف کر دے۔ میں نے توبہ کر لی اب آئندہ میں تمہاری طرف دیکھوں گی بھی نہیں۔تم آرام سے باہر نکل آؤ۔ میں کچھ بھی نہیں کہوں گی۔چوہے نے کہا۔ بڑی بی بات تو ٹھیک ہے مگر اعتبار مشکل ہے۔ میں بھوک سے نڈھال ہوں۔ یہ نہ ہو میں نکل آؤں اور پھر میری ہڈیاں بھی نہ بچیں۔ بلی نے کہا بھروسہ کر لو میں وعدہ کر چکی ہوں بلکہ تمہیں بھوک لگی ہے تو میں تمہیں چاولوں کا گودام دکھاتی ہوں۔ چوہا نکلنے میں پس و پیش کر رہا تھا تو بلی نے کہا۔ اچھا ایک کام کرو۔ اپنے بھروسے کے لئے تم اس بل سے نکل کر سامنے والے بل میں جاؤ۔ میں آنکھیں بند کر لوں گی۔ جب تم یقین کر لو گے تو میں تم کو چاولوں کے گودام تک لے چلوں گی۔ چوہے نے بلی کو دیکھا۔ پھر سامنے والے بل کو دیکھا اور پھر چشم تصور سے ’بطریق منام ‘چاولوں کے گودام کو دیکھا تو آہستہ سے گویا ہوا۔ بی اماں میرے پرکھوں نے مجھے ایک وصیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا وہ کام کبھی نہ کرنا جس میں فاصلہ کم ہو، انعام زیادہ۔ جس میں محنت کم ہو اور منافع زیادہ۔



















































