بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے خطرے نے سِر اُٹھالیا،امریکہ بھی افغان صدر کی ہاں میں ہاں ملانے لگا،نیٹوکے امریکی کمانڈرنے سنگین دعوے کردیئے

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی)افغانستان میں نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں شدت پسندوں کے درمیان اتحاد امریکہ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔جنرل نکلسن نے یہ بات امریکی فوجی ادارے کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ القاعدہ جو ایک پرتشدد تنظیم ہے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے

امریکی جنرل نے الزام لگایاکہ   طالبان حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور القاعدہ فی البرصغیر کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان پانچ تنظیموں کا ایک غیر رسمی اتحاد ہے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔جنرل نکلسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دولتِ اسلامیہ، ازبکستان اسلامی موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی ایک غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان تنظیموں نے غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے مقاصد کسی ملک تک محدود نہیں ہیں۔’وہ امریکہ اور امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے مقاصد رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہماری فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ دیگر تنظیموں پر بھی ہمیں تشویش ہے اور یہ تنظیمیں خطے تک محدود ہیں۔انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر القاعدہ برصغیر اپنی کارروائیاں خطے تک محدود رکھتی ہے۔ بہت سی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں اور کچھ افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ جیش محمد، لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں آ کر لڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان اس لیے اہم ہے کہ امریکہ کی جانب سے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں سے 20 تنظیمیں اس خطے میں موجود ہیں۔ ایسا دنیا کے کسی خطے میں نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…