بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک میں اجتماعی قبرسے4000 افراد کی لاشیں برآمد ،لرزہ خیز انکشافات

datetime 27  فروری‬‮  2017 |

بغداد(آئی این پی)عراق کے شہر موصل کے مضافاتی علاقے سے اجتماعی قبردریافت ہوئی ہے جس سے 4000 افراد کی لاشیں برآمد کرلی گئیں،دوسری جانب عراقی فوج نے موصل کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے داعش کے خلاف کاروائیوں میں تیزی پیدا کر دی جبکہ داعش کے چنگل سے فرار ہونے والے بچوں اور بڑی عمر کے مردوں کو کرد فوج نے یرغمال بنانا شروع کردیا ۔ ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق موصل کے مضافاتی علاقے سے ایک اجتماعی قبر سے چار ہزار افراد کی لاشیں ملی ہیں ۔

عراقی فوج کی طرف سے قبضے میں لیے جانے والے اس علاقے میں موجود روزنامہ ٹیلی گراف کے صحافی کو عینی شاہدین نے بتایا ہے دہشت گرد 2014 میں ان افراد کو ویگنوں اور ٹرکوں سے دیگر علاقوں سے یہاں لائے تھے اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ۔ اکثر لاشوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے ۔ صحافی کے مطابق داعش نے 10 جون 2014 کو موصل شہر پر قبضہ کیا تھا ۔ پولیس اور فوجیوں کو جنگی اسیر بنانے کے 6 ماہ بعد انھیں ہلاک کرنا شروع کر دیا تھا ۔ عراقی فوج نے پشمرگوں اور نینووا مجاہدین کیساتھ مل کر 17 اکتوبر کو موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کاروائی کا آغاز کیا تھا ۔دوسری جانب عراقی فوج نے موصل کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے داعش کے خلاف کاروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے ۔ شہر موصل میں دہشت گرد تنظیم داعش کو نکالنے کے لیے جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں مقامی آبادی دہری مصیبت کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق موصل میں داعش کے چنگل سے فرار ہونے والے بچوں اور بڑی عمر کے مردوں کو کرد فوج نے یرغمال بنانا شروع کردیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ موصل میں جاری لڑائی کے دوران بڑی تعداد میں شہری وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے بچوں اور جوانوں کو کرد فورسز نے یرغمال بنا لیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب عراق کے صوبہ کردستان کی فوج پر دوسرے شہروں سے آنے والے شہریوں کو گرفتار کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ 2014 میں اربیل اور دوسرے شہروں میں قائم پانچ پناہ گزین کیمپوں سے 900 آئے نو سو بچوں اور مردوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔کرد فورسز کے ہاں گرفتار کیے گئے شہریوں میں سے بعض کو 14 ماہ کے لیے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور اس دوران انہیں اپنے لواحقین سے رابطے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…