ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ایران اور ترکی آمنے سامنے،شدید کشیدگی،اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کااعلان

datetime 22  فروری‬‮  2017 |

تہران/انقرہ (آئی این پی)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے ترکی کے خلاف تندوتیز بیان کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی، دونوں نے شام میں جاری بحران اور مشرق وسطی میں کردار کے حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف سخت الزام تراشی کی ہے۔ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو جرمنی میں منعقدہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اختتام ہفتہ پر اپنی تقریر کے دوران میں ایران پر برس پڑے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے بعض اقدامات سے خطے میں سلامتی کو نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے ایران پر زوردیا تھا کہ وہ خطے میں استحکام کو فروغ دے۔ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ایران شام اور عراق کو شیعہ ریاستیں بنانا چاہتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایران پر ”فارسی قومیت پرستی” کو فروغ دینے کا الزام عاید کیا تھا جس نے ان کے بہ قول مشرقِ وسطی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ میں تہران میں متعین ترک سفیر کو طلب کیا گیا تھا اور ان سے وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو کی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں مذکورہ تقریر پر احتجاج کیا گیا تھا۔وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بعد میں نیوزکانفرنس میں ترکی کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ”تہران کے صبر کی بھی حدود ہیں”۔ بہ الفاظ دیگر ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ترکی کی جانب سے ناقدانہ بیانات پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ آیندہ اس طرح کے بیانات کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔اگر ہمارے ترک دوست اس طرح کا رویہ جاری رکھیں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حسین مفتی اوغلو نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ تہران کی جانب سے اس طرح کے الزامات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انھوں نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس کو علاقائی بحرانوں اور جنگ زدہ علاقوں کے مہاجرین پر پل پڑنے میں بھی کوئی تردد نہیں ہوتا ہے۔ترک ترجمان نے کہا کہ ایران کو خود پر تنقید کرنے والے ممالک پر الزام تراشی کے بجائے تعمیری اقدامات کرنے چاہییں اور اپنی علاقائی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ایران اور ترکی کے درمیان ویسے تو صدیوں سے مخاصمت رہی ہے اور دونوں علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف سفارتی اور سیاسی محاذوں کے علاوہ بعض اوقات میدان جنگ میں بھی مدمقابل آتی رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور ایران نے گذشتہ سال صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…