جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

دنیا بھر کے سیاستدان دنیا میں کس خطرناک چیز کو تشکیل دے رہے ہیں ؟ رپورٹ نے تہلکہ مچادیا

datetime 23  فروری‬‮  2017 |

لندن (آئی این پی)حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جو سیاستدان تفریقی اور انسانی اقدار کے مخالف بیان بازی کرتے ہیں وہ ایک خطرناک اور منقسم دنیا تعمیر کر رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تفریقی اور منقسم سیاست کی ایک مثال کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کے علاوہ رپورٹ میں ترکی، ہنگری، اور فلپائن کے

 

رہنمائوں کی بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رہنما خوف، تقسیم اور الزام بازی کا ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں فلپائن کے صدر دوترتے، ترکی کے طیب اردوغان، اور ہنگری کے اوربان کی بھی تنقید کی گئی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ مختلف حکومتیں تارکینِ وطن کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔159 ممالک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے والی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہی ماحول جاری رہا تو دنیا میں لوگوں پر نسل، صنف، قومیت، اور مذہب کی وجہ سے حملوں میں اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں کیے گئے جنوبی ایشیا کے جائزے کے مطابق خطے میں انسانی حقوق کی فراہمی میں پریشان کن تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ مختلف حکومتوں کی جانب سے قومی خودمختاری اور سکیورٹی کو وجہ بنا کر انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے کام کرنے کی گنجائش میں کمی کرنا اور ان کی آزادی کو تلف کرنے کے اقدامات ہیں۔رپورٹ میں انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی راج کے دور کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کو تلف کیا گیا اور حکومت کے ناقدین کی آواز کو دبایا گیا۔پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور بلاگرز کو حکومتی اور غیر حکومتی

 

عناصر دونوں ہی سے اغوا، بے جا گرفتاریوں، اور ہراساں کیے جانے کے خطرات کا سامنا رہا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے بجائے بہت سے رہنما سیاسی مقاصد کے لیے انسانی اقدار کے مخالف ایجنڈا سنبھالے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیا قابلِ قبول ہے، اس کی حد بدلتی جا رہی ہے۔ سیاست دان بے شرمی سے لوگوں کی شناخت کی بنیاد پر نسل

پرستی، صنف پرستی، اور ہم جنس پرستی کے مخالف نفرت انگیز بیان بازی اور پالیسیوں کو جائز بنا رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…