بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خاتون ممبر پارلیمنٹ اور اسکے شوہر کی لاتوں مکوں اور ڈنڈوں سے دھلائی،وجہ جان کر شائد آپ بھی پولیس کی حمایت کریں

datetime 21  فروری‬‮  2017 |

جے پور(آئی این پی)بھا ر تی ریاست راجھستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور اس کے شوہر کو تھانے میں بدمعاشی اور پولیس افسر کو تھپڑ مارنا مہنگا پڑ گیا ،پولیس پر ہاتھ اٹھانے پر اہلکاروں نے دونوں میاں بیوی کی جم کر دھلائی کر دی ،بی جے پی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق رام گنج منڈی کے علاقے مہاویر نگر میں واقع ایک سگریٹ فروش کا پولیس نے چالان کر دیا ،

جس پر مودی کی پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے تھانے کا گھیرا کر لیا ،جس پر پولیس نے بی جے پی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا ،اطلاع ملنے پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی راجھستان سے معروف خاتون ممبر پارلیمنٹ کانتا میگھوال اپنے شوہر نریندرمیگھوال کے ہمراہ گرفتار کارکنوں کو چھڑانے کے لئے پولیس سٹیشن پہنچ گئیں ،کارکنوں کے ہجوم کو دیکھ کر آپے سے باہر نریندر میگھوال تھانے کے اندر ہی پولیس افسروں سے الجھ پڑے ،بات تلخی اور گالم گلوچ پر پہنچی تو نریندر میگھوال نے پولیس افسر شری رام کو دھکے دینا شروع کر دیئے ،کارکنوں کے ہجوم کو دیکھ کر آپے سے باہر نریندر میگھوال تھانے کے اندر ہی پولیس افسروں سے الجھ پڑے ،بات تلخی اور گالم گلوچ پر پہنچی تو نریندر میگھوال نے پولیس افسر شری رام کو دھکے دینا شروع کر دیئے اور پھر ڈی ایس پی چونا رام جاٹ کے منہ پر طمانچہ بھی جڑ دیا ،جس پر تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں نے نریندر کو گھیر لیا اور جم کر لاتوں مکوں اور ڈنڈوں سوٹوں کا نشانہ بنانے لگے ،شوہر کی دھلائی دیکھ کر کانتا میگھوال آگے بڑھیں تو مشتعل اور غصے سے بپھرے پولیس والوں نے خاتون ممبر پارلیمنٹ کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا اور غنڈہ گردی کرنے والے دونوں میاں بیوی اور کارکنوں کی جم کر دھلائی کی ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…