بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں ریاستوں کی غیراعلانیہ جنگ،افغان صدرنے بڑی پیشکش کردی

datetime 19  فروری‬‮  2017 |

میونخ(آئی این پی )افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے،دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا،افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ ریاستوں کے مابین غیر

اعلانیہ جنگ ہے،ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔اتور کو جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کے امور پر ہونے والی اہم کانفرنس میں افغان صدر نے خطاب کیا اور اپنے خطاب کے اہم نکات پر مشتمل ٹویٹس بھی کیں۔افغان صدر نے کہاکہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے تاکہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کی جاسکے ۔دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا۔،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا۔انھوں نے کہاکہ دہشت گردی ہمارے عہد کا واضح چیلنج ہے۔ اس چیلنج پر فتح پانے کے لیے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم و ہمت درکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں آرڈر(یعنی نظم و ضبط) کو نئے سرے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سود مند، پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔انھوں نے پاکستان اور افغانستان سرحد پر حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا اور جب تک یہ تفریق اور تقسیم رہے گی ہم ہارتے رہیں گے۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں۔ یہ منشیات کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ‘ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…