منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

افغانستان میں ریاستوں کی غیراعلانیہ جنگ،افغان صدرنے بڑی پیشکش کردی

datetime 19  فروری‬‮  2017 |

میونخ(آئی این پی )افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے،دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا،افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ ریاستوں کے مابین غیر

اعلانیہ جنگ ہے،ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔اتور کو جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کے امور پر ہونے والی اہم کانفرنس میں افغان صدر نے خطاب کیا اور اپنے خطاب کے اہم نکات پر مشتمل ٹویٹس بھی کیں۔افغان صدر نے کہاکہ جو ملک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انھیں تنہا کردینا چاہیے تاکہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کی جاسکے ۔دہشتگردی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی کوئی بھی خطہ دہشتگردی کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے گا۔،کابل قندھار،ہلمند اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا۔انھوں نے کہاکہ دہشت گردی ہمارے عہد کا واضح چیلنج ہے۔ اس چیلنج پر فتح پانے کے لیے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم و ہمت درکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں آرڈر(یعنی نظم و ضبط) کو نئے سرے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سود مند، پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔انھوں نے پاکستان اور افغانستان سرحد پر حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا اور جب تک یہ تفریق اور تقسیم رہے گی ہم ہارتے رہیں گے۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں۔ یہ منشیات کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ‘ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…