پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کی سکیورٹی صورتحال ،پیپلزپارٹی نے سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں اہم فیصلہ سنادیا

datetime 16  فروری‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہاہے کہ ہماری قیادت کے باہر نکلتے ہی سکیورٹی کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں، سکیورٹی وجوہات کی بناء پر آج ( جمعہ ) لاہور میں ہونے والا جلسہ منسوخ کر دیا گیا ہے ، سکیورٹی ادارے اور عوام قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ حکمران انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار نہیں ، ضرورت پڑنے پر پنجاب میں رینجرز آنی چاہیے ۔ میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور میں جلسہ کے لئے اجازت طلب کی گئی تھی تاہم پنجاب حکومت اور سکیورٹی اداروں نے سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے آج ( جمعہ ) ہونے والا جلسہ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہماری قیادت میدان میں نکلتی ہے سکیورٹی تھریٹ شروع ہو جاتے ہیں ، بلاول بھٹو کو سکیورٹی رسک تھا لیکن وہ پھر بھی باہر نکلے۔پیپلزپارٹی کو کبھی لیول پلءئنگ فیلڈ نہیں ملا امید کرتے ہیں کہ 2018ء میں ملے گا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہماری فوج پولیس رینجرز اور عوام قربانیاں دے رہے ہیں لیکن حکمران اپنا کام نہیں کر رہے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔عدالتیں ،فوج ،سیاسی جماعتیں اور میڈیا بھی نیشنل ایکشن پلان پرعمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔حکومت دل سے اپنی فوج کے ساتھ نہیں کھڑی اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی نہ ہوتی۔ہماری حکومت اپنی فوج اور پولیس کے ساتھ کھڑی ہوئی ہم نے تین ماہ میں سوات آپریشن کرکے جنگ جیتی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار نہیں اور حکمرانوں کی صفوں میں موجود لوگوں کا انتہا پسندوں سے رشتے اور رابطے ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ دہشت گردوں اور حکومتی سوچ دونوں کی مذمت کرتے ہیں،حکمرانوں کی صفوں میں صفائی کی ضرورت ہے ورنہ یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی،کچھ پولیس افسران شریف برادران کی نوکریاں کرتے ہیں،نوکریاں اور پوسٹنگ اتنی اہم نہیں کہ ضمیروں کے سودے کریں۔ ہم اپنی فورسز کو تعاون کا یقین دلاتے ہیں ،پنجاب میں اگر ضرورت پڑے تو رینجرز بھی آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین دنوں کے واقعات سے حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں، کومبنگ آپریشن حکومتی پارٹی کے اندر اور حکومت کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…