ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دو سو الفاظ آ پ کو امر یکہ میں ہوٹل کا مالک بنا سکتے ہیں

datetime 12  مارچ‬‮  2015 |

نیویارک(نیوز ڈیسک )بعض اوقات انسان کی قسمت اسے زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے لیکن اس میں اس کی دماغی صلاحتوں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے تو لیجئیے اگر آپ خوبصورت اور دل میں اتر جانے والی تحریر لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو امریکا میں دس لاکھ ڈالر مالیت کا ہوٹل آپ کا منتظر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو ایک مضمون لکھنا ہوگا اور اس مقابلے میں شامل ہونے کے لیے صرف 125 ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔امریکا کے علاقے نیو انگلینڈ ان میں موجود ”دی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ“ نامی ہوٹل کی مالک 68 سالہ سیج اپنے ہوٹل کو ایک ایسے شخص کے حوالے کرنا چاہتی ہیں جو بہترین لکھاری ہو اور اپنی سوچ کو تحریر میں لاکر لوگوں کا دل جیتنے کا فن جانتا ہو اس کے لیے سیج نے ایک مضمون نویسی کے مقابلے کا اعلان کردیا ہے اور لوگوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ 200 الفاظ کا مضمون لکھیں اور صرف 125 ڈالر جمع کرا کر مقابلے کاحصہ بن جائیں۔ سیج کا کہنا ہے کہ مضمون کا موضوع ہے، ”میں یہ ہوٹل کیوں خریدنا چاہتا ہوں اور اسے کیسے چلاو¿ں گا“سیج کو ہوٹل کی ملکیت کیسی ملی اس کی دلچسپ تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج سے 22 سال قبل اس ہوٹل کے پہلے مالک نے ریٹائرمنٹ سے قبل اسی طرح کے مضمون نویسی کا مقابلے کا انعقاد کیا جس کی فیس 100 ڈالرتھی اور میں نے بڑے ذوق و شوق سے اس مں حصہ لیا اور یہ مقابلہ جیت کر ہوٹل کی مالک بن گئی اور اب چاہتی ہوں کہ میرے بعد آنے والا مالک بھی اسی طرح اس ہوٹل کو حاصل کرے اور اس روایت کو ا?ئندہ بھی برقرار رکھے۔دی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ“ ہوٹل 1805 میں پورٹ لینڈ کے قصبے لوویل میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کے اب تک کئی مالک تبدیل ہوچکے ہیں۔ سیج کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ اس مقابلے میں 7500 انٹریز ہوں گی اور ایک انٹری کی قیمت 125 ڈالر ہے جس سے انہیں 9 لاکھ 37 ہزار ڈالر جمع ہونے کی توقع ہے جو کہ ہوٹل کی اصل قیمت سے کچھ ڈالر ہی کم ہے۔ مقابلے کے شرکا میں سے 20 فائنلسٹ کا انتخاب ایک کمیٹی کرے گی جبکہ اس میں سے جیتنے والے خوش نصیب کا اعلان 21 مئی کو کیا جائے گا۔تو پھر سوچیں نہیں دے ڈالیں انٹری ہوسکتا 10 لاکھ ڈالر کا ہوٹل آپ کا ہی منتظرہو!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…