ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ پاکستان نے سرخ لکیر کھینچ دی، اٹلی، میکسیکو، سپین، جنوبی کوریا اور ارجنٹائن کی پاکستانی موقف کی حمایت

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی) پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہاہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ پاکستان کیلئے ’’ریڈ لائن‘‘ ہوگا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات پرجاری مباحثے کے دوسرے روز اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے ، احتساب اورجمہوریت کے تمام اصولوں کی نفی ہوگا جن کوپاکستان بے حد اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سلسلہ میں ہر ملک کے حوالہ سے ریڈ لائنز کا واضح تعین کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اصلاحات کے حوالے سے کسی مسودہ کی تیاری اس صورت میں مفید ہوسکتی ہے جب رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے موجود ہو، مسودہ کی تیاری رکن ممالک کے درمیان اتفا رائے پیدا نہیں کرسکتی خاص طور پر اس صورت میں جب رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی شدید نوعیت کے ہوں۔ پاکستان کا موقف اس حوالے سے یہ ہے کہ اپنی توجہ بنیادی طور پر ادارے میں اصلاحات پر مرکوز کی جائے اگر اصلاحات پرکھلے ماحول میں معروضی انداز میں اور دانشمندانہ طریقے سے بات چیت کی جائے تو کسی حتمی نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کے خلاف دستاویزی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1945ء میں جنرل اسمبلی کے 46 ارکان کیلئے صرف 6 نشستیں دستیاب تھیں،1965ء میں جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر112ہوگئی لیکن ان کے لئے دستیاب نشستیں صرف10تھیں، آج جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر188 ہوچکی ہے لیکن ان کیلئے سلامتی کونسل کی دستیاب نشستیں10 ہی ہیں جس کا تناسب تقریباً1:19 کا ہے

اس صورتحال سے واضح ہوجاتا ہے کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔ اس موقع پر اٹلی، میکسیکو، سپین، جنوبی کوریا اور ارجنٹائن کے مندوبین نے بھی اظہارخیال کیا۔ ان تمام مندوبین نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…