پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ پاکستان نے سرخ لکیر کھینچ دی، اٹلی، میکسیکو، سپین، جنوبی کوریا اور ارجنٹائن کی پاکستانی موقف کی حمایت

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی) پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہاہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ پاکستان کیلئے ’’ریڈ لائن‘‘ ہوگا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات پرجاری مباحثے کے دوسرے روز اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے ، احتساب اورجمہوریت کے تمام اصولوں کی نفی ہوگا جن کوپاکستان بے حد اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سلسلہ میں ہر ملک کے حوالہ سے ریڈ لائنز کا واضح تعین کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اصلاحات کے حوالے سے کسی مسودہ کی تیاری اس صورت میں مفید ہوسکتی ہے جب رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے موجود ہو، مسودہ کی تیاری رکن ممالک کے درمیان اتفا رائے پیدا نہیں کرسکتی خاص طور پر اس صورت میں جب رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی شدید نوعیت کے ہوں۔ پاکستان کا موقف اس حوالے سے یہ ہے کہ اپنی توجہ بنیادی طور پر ادارے میں اصلاحات پر مرکوز کی جائے اگر اصلاحات پرکھلے ماحول میں معروضی انداز میں اور دانشمندانہ طریقے سے بات چیت کی جائے تو کسی حتمی نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کے خلاف دستاویزی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1945ء میں جنرل اسمبلی کے 46 ارکان کیلئے صرف 6 نشستیں دستیاب تھیں،1965ء میں جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر112ہوگئی لیکن ان کے لئے دستیاب نشستیں صرف10تھیں، آج جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر188 ہوچکی ہے لیکن ان کیلئے سلامتی کونسل کی دستیاب نشستیں10 ہی ہیں جس کا تناسب تقریباً1:19 کا ہے

اس صورتحال سے واضح ہوجاتا ہے کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔ اس موقع پر اٹلی، میکسیکو، سپین، جنوبی کوریا اور ارجنٹائن کے مندوبین نے بھی اظہارخیال کیا۔ ان تمام مندوبین نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…