اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی ہرزہ سرائی ،پاکستان سے ریفرنڈم کا حیرت انگیز مطالبہ کردیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

نئی دہلی / ہردوار(آئی این پی)بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک بار پھر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے اور ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ تھا اور اسکے ساتھ ہی رہے گا کوئی بھی طاقت اسے ہم سے الگ نہیں کرسکتی،پاکستان کویہ دیکھنے کیلئے اپنے ملک میں ایک ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ کیا اسکے لوگ اسی ملک میں رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ضم ہوناچاہتے ہیں،

بھارت ہمیشہ پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے لیکن اسلام آباد ان تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہا ہے اسے دہشتگردوں اور کشمیر پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرنے والوں کو روکنے کی ضرورت ہے، سرجیکل سڑائیکس کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ہم ایک سخت قدم بھی اٹھا سکتے ہیں،ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے سن لیں اگر کسی نے بھی ہمیں چھونے کی کوشش کی ہم اسے معاف نہیں کریں گے ۔اتوارکو بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترکھنڈ کے ضلع ہردوار میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ اب پاکستان کشمیر پر ریفرنڈم چاہتا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ تھا اور اسکے ساتھ ہی رہے گا کوئی بھی طاقت اسے تبدیل نہیں کرسکتی ۔پاکستان کویہ دیکھنے کیلئے اپنے ملک میں ایک ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ کیا اسکے لوگ اسی ملک میں رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ضم ہوناچاہتے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہاکہ میں پاکستان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بھارت ہمیشہ پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے لیکن یہ صرف اسلام آباد ہی ہے جو ان تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہا ہے اسے دہشتگردوں اور کشمیر پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرنے والوں کو روکنے کی ضرورت ہے ۔

راجناتھ سنگھ نے بڑھک مارتے ہوئے کہاکہ سرجیکل سڑائیکس کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ہم ایک سخت قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔بھارت ایک پرامن ملک ہے لیکن اب یہ ایک نرم قوم نہیں رہا۔بھارتی وزیر داخلہ نے ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر کسی نے بھی ہمیں چھونے کی کوشش کی ہم اسے معاف نہیں کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…