اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

آج جان لیں کہ آپ کیا چیز دودھ سمجھ کر پیتے رہے؟بڑی بڑی کمپنیوں کی مصنوعات کے نام جاری کردیئے گئے

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(نیوزڈیسک) ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان میں صحت کے بارے میں اپنے ایک تازہ ترین سروے میں کہاہے کہ ملک میں44فیصد بچوں میں نشوونماکی کمی پائی جاتی ہے ۔سروے میں مزید بتایاگیاکہ 62فیصد بچوں  ،51 فیصدحاملہ خواتین اوردودھ پلانے والی خواتین کو آئرن اورفولک ایسڈکی کمی کاسامناہے جبکہ 64فیصد آبادی میں وٹامن اے اور69فیصدلوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہے ۔

ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کایہ سروے سامنے آنے کے بعد پنجاب فوڈاتھارٹی نے عوام کواطلاع عام میں کہاہے کہ مختلف ٹی وائیٹنرزجن میں میلاک ،لگن ،ترنگ ،گورمے الٹی میٹ ،ٹی میکس ،کپ شپ،دوس ٹی ،چائیکا،ایوری ڈے ،چائے مکس ،ڈیری کوئین ،قدرط اورآل میکس ڈائری فیٹ (Dairy Fat)کی بجائے ویجٹیبل فیٹ( (Vegetable Fatسے بنائے جارہے ہیں ۔پنجاب فوڈاتھارٹی نے مزید بتایاکہ سائنسی تحقیق کے مطابق 12سال اوراس سے کم بچوں کی غذامیں ڈیری فیٹ (Dairy Fat)ایک ضروری جزواورخصوصیاًبچوں کی ذہنی نشوونماکےلئے ناگزیرہے جودودھ میں پایاجاتاہے مگرٹی وائٹینرز(Tea Whiteners)میں نہیں ہوتاہے ۔

پنجاب فوڈاتھارٹی نے اس بارے میں کہاہے کہ عوام مندرجہ بالاٹی وائیٹنرزدودھ سمجھ کرنہ خوداستعما ل کریں اورنہ ہی اپنے بچوں کودودھ سمجھ کرپلائیں اوربچوں کےلئے اس کوڈیری فیٹ کاذریعہ بھی نہ بنائیں ۔پنجاب فوڈاتھارٹی نے عوام کویہ اطلاع PFAایکٹ2011کے سیکشن 7.2جےکے تحت فراہم کی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…