جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی، گوگل نے تمام عملے کو واپس بلا لیا،مارک زکربرگ کا ٹرمپ کوانتباہ

datetime 28  جنوری‬‮  2017 |

نیویارک (آئی این پی)ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے احکامات کے بعد تمام عملے کو واپس بلا لیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے کہا ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے بعد اپنے اس تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے جو بیرون ملک سفر پر ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے تحت ایران اور عراق سمیت چھ ممالک کے باشندوں کو اگلے تین ماہ تک ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد ‘انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں’ کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔گوگل نے بتایا ہے کہ اسے ایسے کسی بھی حکم یا اقدام پر تشویش ہے جس کی وجہ سے باصلاحیت افراد امریکہ نہ آسکیں۔ان نئی پابندیوں سے وہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بہت متاثر ہوں گی جو خصوصی ’ایچ ون ۔ بی‘ ویزے پر بیرون ملک سے ہنرمند افراد کو بلاتی ہیں۔بی بی سی کے بزنس کے نامہ نگار جو لینم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایران، شام، یمن، سوڈان، صومالیہ اور لیبیا کے ہزاروں شہری امریکہ آنے والی پروازوں پر سوار نہیں ہو سکیں گے خواہ ان کے پاس وہاں کا گرین کارڈ (مستقل رہائش کا اجازت نامہ) ہی کیوں نہ ہو۔کچھ رپبلکنز نے صدر کے اس اقدام کی تعریف کی ہے

جس میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ ہم چیزوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور ویزوں کے اجرا کے عمل کو اور مستحکم بنائیں۔ امریکہ میں مقیم ایک عراقی صحافی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان کے والد کو قطر سے لاس اینجلس آنے والی پرواز پر سوار نہیں ہونے دیا گیا۔

نیشنل ایرانین امیریکن کونسل کے جمال عابدی نے تحقیقاتی صحافت کرنے والے تنظیم ’پرو پبلیکا‘ کو بتایا کہ ’ہم پر فون کالز اور سوالات کی بھر مار ہو رہی ہے کہ اس فیصلے سے لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔امریکین اسلامک ریلیشن کونسل کا کہنا ہے کہ وہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…