بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کھاناکس طرح کھایا جائے تو جسم کو فائدہ پہنچتا ہے ؟ طبی ماہرین بھی نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی خوبصورت عادات کے قائل ہو گئے

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تعلیمات میں بیماریوں سے بچنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کھانے کو چبا کر کھایا جائے ۔اس سنت رسول ﷺکو سائسندانوں نے بھی مان لیا ہے ۔ایک نئی تحقیق سے کھانا اچھی طرح چبا کر کھانے کے فوائد سامنے آئے ہیں جس سے انسان بیماریوں سے بچتا ہے جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی طرح چبا کر کھانے سے ایسے خلیات پیدا ہوتے ہیں جو خطرناک امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے لڑتے ہیں۔

نئی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ خوب چبا کر کھاتے ہیں ان کے منہ سے ٹی ہیلپر خلیات (سیلز) خارج ہوتے ہیں جنہیں ٹی ایچ 17 سیلز بھی کہا جاتا ہے، ٹی ایچ 17 سیل جسم کے قدرتی دفاعی (امنیاتی) نظام کا حصہ ہوتے ہیں جو امراض پیدا کرنے والے جراثیم کو روکتے ہیں اور ساتھ میں جسم دوست بیکیٹریا کو بھی پروان چڑھاتے ہیں۔یہ مطالعہ یونیورسٹی آف مانچیسٹر کے سائنسدانوں نے کیا ہے جن کے مطابق کھانا چبانے سے ہمارے مسوڑھے جسم کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جب کہ ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ اگرچہ بہت چبانے سے منہ، دانتوں اور مسوڑھوں میں رگڑ اور ٹوٹ پھوٹ پیدا ہوتی ہے لیکن اس سے ٹی ایچ 17 سیلز بھی پیدا ہوتے ہیں۔ماہرین کےمطابق اگر جپانے کا عمل منہ میں معمولی خراشیں اور رگڑ پیدا کرتا ہے تو اس سے ٹی ایچ 17 خلیات بھی پیدا ہوتے ہیں اور وہ خطرناک امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے لڑتے ہیں تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ ٹی ایچ 17 سیلز کی زیادہ مقدار بھی اچھی نہیں، اس کی بہتات مسوڑھوں کی بیماری کی وجہ بن سکتی ہے جو ذیابیطس اور گٹھیا کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ماہرین نے ایک اور اہم بات کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ منہ میں جلن اور سوزش کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں کیونکہ یہ بہت سارے امراض کی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…