جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

خیبرپختونخوامیں بس ریپیڈٹرانزٹ کے منصوبےکی تکمیل ،پرویزخٹک نے ٹائم فریم دیدیا

datetime 13  جنوری‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے 40 ارب روپے کی لاگت سے پشاور کی ٹریفک کے کل وقتی حل کیلئے بس ریپیڈٹرانزٹ کے منصوبے کو وقت پر گرائونڈ پر لانے اور کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ پراجیکٹ مین روٹ کو 8 دیگر رابطہ سڑکوں سے مربوط کرکے 380 ائرکنڈیشنڈ بسوں پر مبنی ایک مکمل پیکج ہو گا جو نہ صرف پشاور کے کل وقتی ٹریفک مسائل کیلئے باہمی طور پر مربوط ٹریفک نظام سے منسلک ہو گا بلکہ اس سے پشاور کی خوبصورتی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا ۔ یہ منصوبہ میر ا passion ہے ۔اور اس کیلئے تمام طریقہ کار اور کم وقت میں تکمیل ایک چیلنج ہے ۔حکومت اس کی تکمیل کیلئے پر عزم ہے۔

یہ بات آج انہوںنے بس ریپیڈ ٹرانزٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کہی۔صوبائی مشیر اکبر ایوب، سیکرٹریز ورکس ، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مذکورہ پراجیکٹ کے تین پیکجز ہیں جو شہر سے حیات آباد تک 27 کلومیٹر طویل ہے ۔ اس کے علاوہ مین روڈ کو 8 مختلف روٹس سے مربوط کرکے پورے پشاور کی ٹریفک کے مسائل کا حل ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کو پشاورکی ٹریفک کے تناظر میں سب سے اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے اس پراجیکٹ کو کم سے کم وقت میں گرائونڈ پر لانا ہے اور کم سے کم وقت میں اس کو مکمل کرنا ہے ۔اسلئے ضروری طریقہ کار کو حتمی شکل دے کر اس کی تعمیر کی طرف عملی قدم نظر آنا چاہیئے یہ منصوبہ ہم مارچ 2018 سے قبل مکمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اس کے لئے متبادل ٹریفک اور روٹس پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے پلان تشکیل دیا گیا ہے جن سڑکوں پر ٹریفک منتقل کی جائے گی اس کی توسیع کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔یہ ایک ایسا پراجیکٹ ہے جو پشاورکی ٹریفک کے تمام مسائل کا حل یقینی بناتا ہے ۔اس منصوبے کیلئے حکومت انڈومنٹ فنڈ سمیت سارے آپشن کھلے رکھتی ہے۔میں خود اس پراجیکٹ اور اس پر ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھوں گا ۔منصوبے کی تعمیر کے تناظر میں یونیورسٹی روڈ کی کشادگی شروع ہو چکی ہے ۔

پشاور بس ٹرمینل کیلئے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ اڈوں کی اس ٹرمینل میں منتقلی کا عمل عنقریب شروع ہو گا۔ زکوڑی بریج ، ڈبگری گارڈن اور حیا ت آباد سمیت مختلف بس سٹیشنوں، مسافروں کی آرام کی سہولیات ، ہوٹل اور کمرشل سرگرمیوں کیلئے بھی جگہ فراہم کی جائے گی ۔یہ ایک قابل عمل پراجیکٹ ہوگا اور ایک وقت کے خرچ کے بعد اس کیلئے حکومت کو سبسڈی نہیں دینا پڑے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…