منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

تصدیق کرلیں کہیں آپ بھی اس عام مرض کا شکار تو نہیں جس میں فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ سب سے زیادہ ہے

datetime 11  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)بلڈ پریشر کا مرض جو ہر دو میں سے ایک فرد کو لاحق ہے فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھادیتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سینٹ بونی فیس ہاسپٹل کی تحقیق کے دوران مختلف عمر کے افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں 50 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے اور انہیں اس کا علم ہی نہیں تھا۔ خیال رہے کہ اگر ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ادویات یا طرز زندگی میں تبدیلیاں لاکر آسانی سے ممکن ہے۔

سینٹ بونی فیس ہاسپٹل کی تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات نہیں ہوتی۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہر دو میں سے ایک شخص ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے جبکہ ہر پچاس میں سے ایک کو سنگین ترین امراض کا خطرہ اس کی وجہ سے لاحق ہوچکا ہے۔تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے شکار اکثر افراد طبی علاج نہیں کراتے کیونکہ انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور جنھیں علم ہوتا ہے وہ اسے اہمیت نہیں دیتے۔محققین نے بتایا کہ اس مرض کی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ تیس سال کی عمر کے بعد ہر چند ماہ بعد اس کا ٹیسٹ کرانا عادت بنائی جانی چاہئے کیونکہ اس مرض کا علاج ہارٹ اٹیک، فالج اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…