پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

تلور کا شکار،قطری امیر کی دریا دلی،بلوچستان کے عوام کے دِل جیت لئے،بڑا کا م کردکھایا

datetime 11  جنوری‬‮  2017 |

کوئٹہ ( این این آئی ) بلوچستان کے قبائلی وسیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ قطری امیر کو شکار کے لئے جو علاقہ الاٹ کیا گیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں قطرکے امیر نے علاقے کے عوام کیلئے 10کروڑ روپے کی ایمبولنس دی ہے ،خود آمد پر وہ علاقے کی ترقی و خوشحالی کیلئے مزید اقدامات کرینگے جس سے علاقے میں ترقی و خوشحالی آئیگی۔

یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی معاون سخی میر امان اللہ نوتیزئی سردار زادہ میر علی حیدر محمد حسنی نواب زادہ عبدالغیاث نوشیروانی ، سردار عبدالرشید ریکی ، نوابزادہ حبیب اللہ خان نوشیر وانی ، نوابزادہ عظیم خان نوشیر وانی ، حاجی زاہد خان ریکی ، نوابزادہ شیر یار نوشیر وانی ، میر فیصل نوشیر وانی ، حاجی عطاء اللہ محمد حسنی ، میر محمد اشرف اعلان زئی ، حاجی میر بخش سیاپاد ودیگر قبائلی و سیاسی عمائدین نے بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ ایک سینیٹر جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے دوسرے سینیٹر کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہیں قطر کے امیر شیخ تمیم بن احمد بن خلفیہ الثانی خاران اور واشک کا علاقہ تلور کے شکار کیلئے الاٹ ہونے پر جو ولولہ کر رہے ہیں وہ بے بنیاد اور غلط ہے جہاں تک نیشنل پارٹی اور ان کے رہنماؤں نواب محمد خان شاہوانی اور سینیٹر کبیر محمد شہی کا تعلق ہے تو ان نہیں خاران واشک میں مداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ ان کا اس علاقے سے کوئی واسطہ نہیں ایک طرف وہ تلور کی نسل کشی کا واویلا کر رہے ہیں اور دوسری طرف ضلع پنجگور میں ان کے ایم پی اے اور وزیر عرب شیخ کا والہانہ استقبال کر کے انہیں بلوچی چادر اور بندوق تحفے میں دیتے ہیں یہ دغلی پالیسی نہیں تو کیا ہے ہمارا نواب شاہوانی اور کبیر محمد شہی سے یہ سوال ہے کہ پنجگور میں شکار قانونی ہے اور خاران ، واشک میں غیر قانونی اس دہرے معیار کی وجہ کیا ہے ان کے پیچھے ان کے کیا مقاصد ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل شیخ خلیفہ بن زیدان سلطان جوکہ ابوظہبی کے حکاکم ضلع خاران واشک شکار کے لئے آتے رہے ہیں اور انہوں نے ہمارے علاقے میں بے شمار ترقیاتی کام کر وائے ہیں جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے ۔ بلکہ ان کے تہہ دل سے مشکور ہے گزشتہ 20سال سے وہ یہاں نہیں آر ہے اور نہ ہی وہ یہاں کوئی ترقیاتی کام کروا رہے ہیں لہذا ہمیں ان کا مزید انتظار نہیں کر سکتے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ یہ ترقیاتی کام ہم پر کسی کا احسان نہیں بلکہ ہمارا حق ہے ۔

انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں ایم پی اے واشک کے ظلم سے نجات دلائیں جو سرکاری مشینری کو غریب کاشتکاروں اورمزدوروں کیخلاف استعمال کر رہے ہیں اور قبائل کی اراضی کو اپنی نام پر غیر قانونی طورپر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…