پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

شکیل آفریدی کیلئے کیا ہورہاہے؟ عافیہ صدیقی کیلئے حکومت پاکستان نے کیا، کیا؟اسٹیفن ڈاؤنزنے ناقابل یقین انکشاف کردیا

datetime 11  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی)اسٹیفن ڈاؤنز نے خط میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوپاکستان واپس لانے کے کئی مختلف طریقے موجود ہیں۔لیکن سب سے پہلے حکومت پاکستان کی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کی درخواست کرنا لازمی ہے اورمیرے علم کے مطابق اب تک ایسا نہیں ہوا ہے، میں انتہائی عجلت میں یہ خط لکھ کر معزز پاکستانی حکومت کویاد دلارہا ہوں کہ جبکہ امریکی صدر اوبامہ کی صدارت کے آخری چند ایام باقی رہ گئے ہیں وہ عافیہ کی رہائی کا ایک بہترین موقع گنوا رہی ہے۔اسٹیفن ڈاؤنز نے کہاکہ میں نے مختلف سرکاری حکام کے ساتھ اپنی کلائنٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی پر تبادلہ خیال کیاہے۔مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ آپ کی ڈاکٹر عافیہ کی جلد وطن واپسی کیلئے ذاتی وابستگی موجود تھی۔

عافیہ موومنٹ کے وکیل اسٹیفن ڈانزنے وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کو خط ارسال کردیا جس کی کاپی صدر مملکت ممنون حسین، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان، مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وفاقی محتسب اعلیٰ سلمان فاروق، سینیٹر طلحہ محمود اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ عافیہ موومنٹ میڈیا سیل سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسٹیفن ڈاؤنز نے خط میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوپاکستان واپس لانے کے کئی مختلف طریقے موجود ہیں۔لیکن سب سے پہلے حکومت پاکستان کی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کی درخواست کرنا لازمی ہے اورمیرے علم کے مطابق اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے، امریکہ کی حکومت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے میں عام معافی پر زور دیا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستان میں سنگین جرائم کی سزا دی گئی ہے اوروہ اس وقت پاکستان کے قوانین کے مطابق سزاکاٹ رہا ہے۔تاہم اس معاملہ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فوری طور پر وطن واپسی میں اس موقع کو استعمال کرنے کیلئے ایک رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہئے۔ یہ ایک قیدی کا دوسرے قیدی سے تبادلہ سے کہیں زیادہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکہ واپسی صرف ڈالر وں کے حصول کا معاملہ ہے۔حکومت پاکستان ماضی میں سی آئی اے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی اس کے وطن واپسی کے معاملے میں عافیہ صدیقی کی واپسی کا موقع گنوا چکی ہے۔ حکومت پاکستان ریمنڈ ڈیوس کو حوالے کرنے سے پہلے، عافیہ کی وطن واپسی پر اصرار کرتی تو میری کلائنٹ آج اپنے گھرمیں ہوتی۔امید ہے ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے آپ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے کو موقع گنوانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان کے لیے قوم کی بیٹی کی واپسی کا اختیار رکھنے کی آپ کی قدرت واضح ہے۔میں نے اس حوالے سے آپ کے وزیر داخلہ کو بھی لکھا تھا۔آپ کی حکومت کا عافیہ کی وطن واپسی کو نظرانداز کیا جانا ناقابل فہم ہے۔ صدر اوباما کسی سیاسی مضمرات کے بغیر عافیہ کی منتقلی سکشن 18USC4100 کے تحت صدارتی دفتر چھوڑنے سے قبل منظور کرسکتے ہیں۔یہ وقت عافیہ کی وطن واپسی کا سنہری موقع ہے۔ہم امریکی جانتے ہیں کہ عافیہ ایک معصوم خاتون ہیں جنہوں نے اتنا کچھ سہا ہے۔صدر اوبامہ پہلے ہی ایک ہزار سے زائد عمر قید سمیت لوگوں کی سزائیں تبدیل کرچکے ہیں اور وہ صدارتی دفتر چھوڑنے تک ایسا کرنا جاری رکھیں گے

۔یہ واضح ہے کہ امریکی حکومت ڈاکٹر عافیہ کومزید امریکی جیل میں رکھنے کی خواہشمند نہیں ہے۔ صرف سوال یہ باقی ہے کہ آپ کی حکومت مزید تاخیر کے بغیر اس وقت کا فائدہ اٹھاکر میری کلائنٹ کو وطن واپس لانے تیار ہے یا نہیں،اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے صرف چند قیمتی ایام باقی بچے ہیں میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم اس موقع کو ضائع نہ کریں جو کئی سال پہلے ہوجانا چاہئے تھا، ایک بہت بڑی ناانصافی کالعدم کرکے پاکستانی عوام کو وقار دیں جس کے وہ مستحق ہیں،سرکاری طور پر حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کیلئے صدر اوباما کو ایک خط لکھے۔ڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرزآپ کی حمایت کریں گے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…