اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

450 کلو وزنی پاکستانی خان بابا کا ایسا ارادہ کہ جان کرآپ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

datetime 11  جنوری‬‮  2017 |

مردان(مانیٹرنگ ڈیسک) موٹاپے کا شکار افراد عموما اپنے غیر معمولی وزن کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں مگر پاکستان کے خان بابا بھاری بھرکم جسم سے بالکل پریشان نہیں بلکہ وہ اپنا وزن بڑھانے کے لیے بے تحاشا کھاتے ہیں۔ وہ باکسنگ کے عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور روزانہ تین تین گھنٹے سخت ورزش کرکے خود کو فٹ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
عرب ٹی وی کے مطابق 24 سالہ خان بابا کا اصل نام ارباب خضر حیات اور قد چھ فٹ ہے۔ خان بابا کے نام سے مشہور حیات کا وزن اس وقت بڑھنا شروع ہوا جب اس کی عمر 18 سال تھی اور آج اس کا وزن 440 کلو گرام تک پہنچ چکا ہے۔ اپنے غیر معمولی موٹاپے اور بھاری جسامت کے باوجود حیات باکسنگ کے عالمی مقابلوں میں حصہ لینے اور باکسنگ کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خان بابا کے مطابق وہ روزانہ 10 ہزار حرارے استعمال کرتے ہیں۔
ایک وقت کے کھانے میں دو کلو مرغی، چاول، پھل اور ایک لیٹر دودھ استعمال کرتے ہیں۔ خان بابا اپنا وزن کم کرنے کے بجائے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا وزن 500 کلو گرام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ خان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ہاتھ سے ٹریکٹر روکنے اور 5 ہزار کلو گرام وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ خود کو فٹ رکھنے کے لیے روزانہ تین تین گھنٹے ورزش کا اہتمام کرتے ہیں۔ حضر حیات ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا خاندان انہیں کھانے کی ضروریات پوری کرنے میں بھرپور مدد دیتا ہے۔ خان بابا ریسلنگ کے دل دادہ ہیں اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے ریسلنگ کے مقابلوں کو بڑے اہتمام سے دیکھتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی شرمندہ بھی ہوئے؟ تو انہوں نے کہا کہ بچپن میں مجھے والد نے کھلونا گاڑی خرید کر دی۔ میں اس کی عقبی سیٹ پر بیٹھا تو اس کے ٹائر ٹوٹ گئے۔ اس پر مجھے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اس کیفیت کو دیکھ کر والد مسکرائے اور مجھے تسلی دی کہ کوئی بات نہیں اور لا دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…