جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

صابن کی ٹکی پسند کرنے کی وجوہات

datetime 9  مارچ‬‮  2015 |

برطانیہ (نیوز ڈیسک ) صابن مائع شکل میں زیادہ مقبول ہے لیکن کچھ لوگ ابھی بھی صابن کی ٹکی کو ترجیح دیتے ہیں۔آپ صابن کس شکل میں پسند کرتے ہیں؟ اگر آپ مائع شکل میں صابن کو پسند کرتے ہیں تو آپ کو جان کر خوشی ہوگی کہ آپ کا شمار اکثریت میں ہوتا ہے۔مارکیٹ ریسرچ فرم مینٹل کہ مطابق 87 فیصد برطانوی شہری باقاعدگی سے مائع شکل میں صابن خریدتے ہیں اور اس کے برعکس ٹھوس شکل میں باقاعدگی سے صابن خریدنے والوں کی شرح 71 فیصد ہے۔ٹھوس شکل میں صابن کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگ صابن کی ٹکی خریدنا کیوں پسند کرتے ہیں؟
کیونکہ وہ ہمیشہ سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔کچھ لوگ روایت پسند ہوتے ہیں۔ کاسمیٹکس کمپنی لش کے بانی مارک کانسٹنٹائن کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمیشہ خوشی کی بات ہوتی ہے جب آپ کوئی ایسی چیز استعمال کریں جس کی طویل تاریخ ہو اور صابن کی ٹکی کی تین ہزار سال پرانی تاریخ ہے اور یہ خوبصورت بھی ہوتی ہے۔‘
ٹھوس صابن زیادہ پرتعیش ہے۔ایک پلاسٹک کی بوتل میں صابن کو آپ سونگھ نہیں سکتے نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں اس کے برعکس ہر صابن کی ٹکی کی بناوٹ اور خوشبو مخلتف ہوتی ہے۔ کچھ میں سمندری نمک اور گری دار میوے بھی لگے ہوتے ہیں۔صابن کی خوبصورت ٹکیوں کو آپ ریشم کے ربن میں باند کر اپنے چاہنے والوں کو تحفے کے طور پر بھی دے سکتے ہیں۔ مائع صابن کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔
شاور میں صابن کی ٹکی سے رگڑ کر میل اتارانے کا احساس۔اپنے جسم سے رگڑ کر میل اتارنے سے نہ صرف جسمانی اطمینان بلکہ نفسیاتی طور پر بھی انسان مطمئن ہوتا ہے۔چاہے آپ صبح سویرے نہائیں یا دن بھر کام کے بعد آپ ایک دم تروتازہ ہوجاتے ہیں۔
کم پیکیجنگ ماحولیاتی آلودگی کے لئے بہتر ہے۔مائع صابن پلاسٹک کی بوتلوں میں آتا ہے، پلاسٹک کہیں سے آتا ہے اور کہیں نہ کہیں اسے پھینکنا پڑتا ہے کیونکہ 100 فیصد ری سائیکلنگ نہیں کی جاسکتی۔
اس کے برعکس صابن کی ٹکی چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے میں بند ہو تی ہے۔ اگر آپ ماحولیاتی آلودگی کے متعلق انتہائی فکرمند ہیں تو آپ بغیر کاغذ کی پیکنگ والے صابن بھی خرید سکتے ہیں۔مارک کانسٹنٹائن کہتے ہیں کہ’ صابن کی بوتل میں 60 فیصد اخراجات پیکیجنگ پر آتے ہیں۔‘
بوتلیں استعمال کرنے میں پیچیدہ ہوتی ہیں۔صابن کی ٹکی کو آپ ایک ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کرسکتے ہیں اس کے برعکس مائع صابن کو استعمال کرنے کے لیے پہلے بوتل کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اسے کھولنا پڑتا ہے۔ مناسب مقدار میں صابن نکالنا بھی ایک مشقت ہی ہوتی ہے۔ٹکی ختم ہونے تک استعمال کی جاسکتی ہے لیکن جب بوتل میں صابن کم ہو جاتا ہے تو اسے استعمال کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…