جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

جہاز

datetime 12  جنوری‬‮  2017 |

جہاز طُوفان میں گھر کے کسی حد تک ٹوٹ چکا تھا کپتان نے مُسافروں سے کہا۔ ” اب ضروری ہو گیا ہے کہ فالتو اور زائد سامان سمندرمیں پھینک دیا جائے، کیونکہ یہ شکستہ جہاز اب زیادہ بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا!”
لوگ اپنی جان بچانے کی فکر میں اپنا سامان سمندر میں پھینکنے لگے، اس عالمِ افراتفری میں دیکھا گیا کہ ایک صاحب نہایت اطمینان سے عرشے پر کھڑے اپنی بیوی سے باتیں کر رہے تھے۔
یکایک انھیں معلوم نہیں کیا سُوجھی کہ بیوی کو دھکا دے کر سمندر میں گرا دیا۔ لوگ دوڑ پڑے اور ان صاحب سے پُوچھا۔ ” یہ آپ نے کیا کیا ؟”
اس شخص نے جواب دیا۔ ” کپتان کے حُکم کی تعمیل !”
لوگ نے پُوچھا۔ ” وہ کس طرح؟”
اس شخص نے جواب دیا۔ ” میرا سب سے بڑا بوجھ میری بیوی تھی۔ میں نے اس بوجھ سے گلو خاصی حاصل کر لی۔ “

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…