اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اپنی کرنسی چیک کرلیں! عوام لُٹ گئے،اصلی کرنسی کی جگہ جعلی کرنسی جیبوں میں پہنچ گئی،حکومت کا سنگین اعتراف

datetime 26  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)بینکوں سے جعلی کرنسی کی ترسیل کا انکشاف ہوا ہےجس کے بعد سٹیٹ بینک نے 30 شہروں میں نئے کرنسی نوٹ کی تصدیق کیلئے نئی مشینیں نصب کرنا شروع کر دیں ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں وفاقی حکومتوں کی ہدایت پر سٹیٹ بینک کی جانب سے متعدد بار مختلف مالیت کے کرنسی نوٹو ں کو تبدیل کئے گئے ہیں جن میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل کئے گئے ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے دشمن ایجنسیوں نے نئے نوٹوں کی نقل بھی تیار کرنی شروع کردی ہے اور بینکوں کی مشینیں بھی اصلی اور جعلی نوٹ کی پہچان میں دھو کہ کھا گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نے اسی بنیاد پر ہنگامی اقدامات نافذ کرنے شروع کردئیے ہیں،ملک بھرکے 30شہروں اوراضلاع میں  جہاں سٹیٹ بینک پاکستان بینکنگ سروس کارپوریشن دفاتر قائم ہیں وہاں اصل نوٹوں کی مکمل پہچان کے فیچرز کی حامل نئی مشینوں کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، ان میں کراچی، لاہور ،راولپنڈی ،فیصل آباد ،اسلام آباد ،سیالکوٹ ،گوجرا نوالہ، ملتان ،حیدر آباد ،بہاولپور،کوئٹہ ،پشاور ،سکھر ،مظفر آباد ،ڈی آئی خان ،گجرات ، میر پور ،سرگودھا، رحیم یار خان ،جہلم،اٹک ، ایبٹ آباد ،شیخوپورہ ،اوکاڑہ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،چکوال ،سوات ،وہاڑی ، خانیوال اور کوٹلی شامل ہیں تاکہ ان تمام شہروں میں کرنسی نوٹوں کو ان مشینوں سے گزار کر دیگر سرکاری اور نجی بینکوں کو جاری کیا جائے اور نقصان کو کم کیا جاسکے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے شہریوں کو جعلی کرنسی سے بچانے کیلئے ‘‘نوٹ پہچانو’’ کے عنوان سے مختصر دورانیہ کی ٹیلی فلم بھی تیارکی جارہی ہے جسے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے نشرکیاجائے گا ۔جعلی نوٹوں کی ترسیل کاپتاچلانے کےلئے سٹیٹ بینک نے ایف آئی اے سے رابطہ کیاہے اورایف آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات شرو ع کردی ہیں کہ آیابینکوں میں جعلی کرنسی کوکس سسٹم میں داخل کیاگیاہے اوراس مکروہ دھندے میں کون سی بڑی مچھلیاں ملوث ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…