ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

سلطان نورالدین زنگی

datetime 21  دسمبر‬‮  2016 |
نورالدین زنگی
نورالدین زنگی

قطب الدین نیشا پوری سلطان نورالدین زنگی کا پرانا درباری تھا جب اس نے دیکھا کہ انتہائی بے خوفی سے سلطان دشمنوں کے لشکر میں گھس رہا ہے اور پھر اس جمگھٹ سے نکلتا ہے تو اس کا دل کانپ گیا۔ وہ بے تحاشا چیخنے لگا۔ سلطان! خدا کے لئے ہمیں امتحان میں نہ ڈالیئے۔ اگر خدانخواستہ آپ مارے گئے تو گویا ساری مخلوق ماری جائے گی دشمن اس ملک کو فتح کر لیں گے اور مسلمان تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

لڑائی گھمسان کی ہو رہی تھی شور و ہنگامہ اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی مگر چیختے چیختے قطب الدین نیشا پوری سلطان کے قریب پہنچ گیا۔ سلطان نے اس کی آواز سن لی اور اسی وقت قطب الدین نیشا پوری کو ڈانٹا۔ قطب الدین اپنی زبان بند کر تو اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی کر رہا ہے۔ میری کیا حیثیت ہے مجھ سے پہلے اس دین اور مملکت کا اللہ کی ذات کے سوا کون محافظ تھا۔ میں تو اس کا ادنیٰ غلام اور اس کے دین کا چاکر ہوں! اس عالی بارگاہ میں نورالدین زنگی جیسے بے شمار خادم ہیں۔ میری حیات و موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میرے لئے یہ عین سعادت ہے کہ اس نے مجھے اپنے دین کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ کی توفیق بخشی۔

سلطان نورالدین زنگی نے یہ کہا اور بری طرح رونے لگا۔ ” مالک ! میرے اس درباری کی غلطی کو معاف فرما کر اس کی نظر تھوڑی دیر کے لئے حقیقت سے ہٹ کر حجاز پر ٹھہر گئی تھی” ۔مولا! بادشاہت و سلطنت صرف تجھ ہی کو زیبا ہے۔ ہم تو آج اس لئے عزت دار ہیں کہ تیرے دین کا پرچم ہمارے ہاتھوں میں اور تیرے پاک رسول ﷺ کی غلامی کا جوا ہماری گردن پر ہے” سلطان چونکہ اپنی حقیقت کو جانتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر کرم فرمایا اور ہر معرکہ میں فتح مند کیا۔ نور الدین کے دربار میں امیروں اور رئیسوں کی عزت نہیں تھی۔ البتہ اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کوئی عالم دین آ رہا ہے تو وہ خود اس کے استقبال کے لئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوتا اور انہیں بڑی عزت و تکریم سے اپنے مسند پر بٹھاتا کہ علم اللہ کا نور ہے اور ہر حال میں قابل احترام۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…