اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ایشیا کا ایسا ملک جہاں ملک کی خوبصورت ترین لڑکیوں کو جمع کر کے ان کے ساتھ کیا جاتا ہے ؟ جان دنگ رہ جائیں گے

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں کہیں بھی ٹریفک پولیس کو دیکھ لیں تو آپ کو گرانڈیل قسم کے لمبے چوڑے پولیس والے یہ ڈیوٹی سرانجام دیتے نظر آئیںگے ۔ مگر شاید آپ کیلئے یہ بات حیران کن ہو کہ ہمارے ہی بر اعظم کے ایک ملک میں ٹریفک وارڈنز کے انتخاب کا معیار لمبا چوڑا قد نہیں بلکہ خوبصورتی ہے ۔ جی ہاں ۔۔! دنیا میں ٹریفک پولیس تو ہر جگہ پائی جاتی ہے لیکن شاید ہی کہیں یہ پولیس ایسی دلکش ہو جیسی شمالی کوریا میں ہے۔ معروف خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت پیانگ یانگ کے ہر چوراہے پر ایک عدد خوبصورت ترین خاتون ٹریفک پولیس کی وردی پہنے کھڑی نظر آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے دیگر تمام شہروں میں بھی خوبصورت لڑکیاں ٹریفک کنٹرول کرتی نظر آتی ہیں تاہم یہ حسین ٹریفک پولیس آفیسر پیانگ یانگ کی شناختی علامت بن چکی ہیںپیانگ یانگ کی ان ٹریفک پولیس آفیسرز کے لیے ایک ویب سائٹwww.pyongyangtrafficgirls.com)) بھی بنائی گئی ہے جس کے مرکزی صفحے پر ہر ماہ ایک خوبصورت ترین پولیس آفیسر کی تصویر آویزاں کی جاتی ہے اور اسے ”پیانگ یانگ ٹریفک گرل آف دی منتھ“ کا خطاب دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…