اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا ایسا مندر جہاں روزانہ خواتین سمیت 20 ہزار افراد بال منڈھواتے ہیں

datetime 6  مارچ‬‮  2015 |

حیدرآباد دکن: بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کا ایک مندر ایسا بھی ہے جہاں لوگ مذہبی رسم کے طور پر اپنے بال رضاکارانہ طور پر منڈھواتے ہیں جب کہ حیران کن بات یہ ہے کہ خواتین بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے پہاڑی علاقے شیشا چالام کے گاؤں ترو مالا میں واقع تاریخی مندر کے سادھو سری وینکاٹیسورا کی یاد میں ہر روز تقریبا 20 ہزارخواتین اور مرد رضاکارانہ طورپر اپنے بال منڈھواتے ہیں جس کے لئے مندر کی انتطامیہ نے 600 حجام رکھے ہوئے ہیں۔ ترومالا مندر میں ہر سال 500 ٹن تک بال جمع ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت بھی کیا جاتا ہے جبکہ گزشتہ برس ترو مالا مندر نے صرف بالوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کر کے 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم حاصل کی۔ ہندوؤں کی قدیم روایات کے مطابق سری وینکاٹیسورا نے اپنی شادی دھوم دھام سے کرنے کے لئے بہت بڑی رقم ادھار لی لیکن وہ ادھار واپس نہ کر سکا اور اسے بالآخر اس کام کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑی اور پھر اس کے پیروکاروں نے اپنے سادھو کی خوشنودی کرنے کے لئے اپنے بالوں کا نذرانہ دینا شروع کر دیا جو آج بھی جاری ہے، بال منڈھوانے کے لئے مندر کے علاوہ گاؤں کے 16 دیگر مقامات بھی مختص کئے گئے ہیں جہاں رضاکارانہ طور پر بال منڈھوائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بال کاٹنے کے لئے ماہر حجاموں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 31 انچ یا اس سے لمبے بالوں کی قیمت 300 سے 450 امریکی ڈالر فی کلو گرام مل جاتی ہے جب کہ 16 سے 20 انچ کے درمیان والے بالوں کی قیمت 300 امریکی ڈالر فی کلو گرام تک مل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ 10 سے 15 انچ لمبے بالوں کی قیمت بھی 120 ڈالر فی کلو گرام حاصل ہوتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…