اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

زیادہ شکر کا استعمال مو ٹاپے اور دانتوں کی خرابی کا باعث

datetime 6  مارچ‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک )عالمی ادارہ ِصحت نے متنبہ کیا ہے کہ خوراک میں ضرورت سے زیادہ شکر کا استعمال نہ صرف موٹاپے بلکہ دانتوں کی خرابی کے علاوہ دیگر کئی امراض کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اقوام ِمتحدہ کے صحت سے متعلق ادارے نے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کی رو سے بڑوں اور بچوں کو اپنی روزمرہ خوراک میں سے شکر کا 10 فیصد کم کرنا چاہیئے، تاکہ وہ مستقبل میں کئی طبی مسائل سے بچ سکیں۔گذشتہ کئی سالوں سے ایسی اشیا کی فروخت میں، جس میں شکر کی مقدار زیادہ ہو، تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسی چیزوں میں ’گلوکوز‘، فرکٹوز‘ اور ’چینی‘ شامل ہے۔ مگر روزمرہ کی خوراک میں زیادہ شکر کے باعث لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے برے نتائج سامنے آئے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق، 1980ءکے بعد سے دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح میں دو گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔عالمی ادارہ ِصحت کا کہنا ہے کہ 2014ءمیں 18 برس یا اس سے بڑی عمر کے 1.9 ارب افراد کا وزن ان کے نارمل وزن سے زیادہ تھا، جبکہ ان میں سے چھ سو ملین افراد زیادہ موٹاپے کا شکار تھے۔ 2013ءمیں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 42 ملین بچے موٹاپے یا شدید موٹاپے کا شکار تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے آگہی بڑھائی جائے اور یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ زیادہ شکر والی غذاو¿ں کے استعمال سے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خوراک میں شکر کی مقدار کم کرکے نہ صرف موٹاپے سے  ممکن ہے بلکہ دانت بھی صحتمند رہتے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق کاربونیٹڈ ڈرنکس یا سوڈے میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سوڈے کے ایک کین میں 10 ٹی سپون شکر موجود ہوتی ہے جو انسان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ دودھ، پھلوں اور سبزیوں میں موجود شکر انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…