ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

محکمہ ایکسائز نے دولہے کی اپلائیڈ فار سجی سجائی گاڑی روک لی دولہا نے مجبور ہو کر کیا کہا ؟

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) محکمہ ایکسائز نے رجسٹرڈ نہ ہونے کے باعث دولہے کی اپلائیڈ فار اور سجی سجائی گاڑی بھی روک لی ،بعد میں منت سماجت سے خلاصی ہوئی ،محکمہ ایکسائز کی جانب سے شہر بھر میں ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف آپریشن،100سے زائد گاڑیاں بند ،سینکڑوں گاڑیاں کے چالان بھی کئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق ٹھوکر بیاز بیگ پر ڈائریکٹر ایکسائز چوہدری محمد آصف کی نگر انی میں آپریشن ہوا جبکہ سگیاں پل پرای ٹی اواکرم شاد، اقبال روڈپرای ٹی اومحمد نعیم کی زیرنگرانی آپریشن کئے گئے۔والٹن روڈپرای ٹی اوراناقمرالحسن،لبرٹی چوک پرای ٹی اوملک اسلم نے آپریشن کی ۔
شہر بھر میں ہونے والے آپریشنز کے دوران 100سے زائد گاڑیاں بند جبکہ سیکڑوں گاڑیوں کے چالان بھی کئے گئے۔ آپریشن کے دوران محکمہ ایکسائز نے نمبر پلیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر بارات والی سجی سجائی کار کو روک لیا ، گاڑی میں دولہا اور اس کے اہل خانہ موجود تھے جو دلہن کو بیاہنے جا رہے تھے ۔محکمہ ایسائزحکام کا کہنا تھا کہ گاڑی رجسٹر نہیں ہے اس لیے سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں دے سکتے جس پر دولہے نے فریاد کی کہ آج میری بارات ہے آج چھوڑ دیا جائے ۔
تاہم شادی کے فوری بعد گاڑی کو رجسٹر کرا لوں گا ۔
دولہے کے یقین دلانے کے بعد محکمہ ایکسائز کے افسران نے دولہے کی گاڑی کو چھوڑ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…