جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

مجھے لگتا ہے کہ قطری شہزادےکے بعد نواز شریف کو بچانےاِس اہم ملک کی شخصیت پاکستان پہنچیں گی

datetime 7  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ عدالت نے آج ثبوت دینے کی ذمہ داری شریف فیملی پر ڈال دی۔ اب کہیں نوازشریف خود کو بچانے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ بلا لیں۔ میڈیا سے گفتگو میں عمران کا کہنا تھا کہ ہم ملک کو پانامہ کیس سے آزادی دلانا چاہتے ہیں۔ ہمارے مدمقابل صرف نواز شریف نہیں بلکہ پوری حکومت ہے۔ ہمارے وکلا نے عدالت میں ثابت کیا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں قوم سے خطاب میں جھوٹ بولا۔ عمران کا مزید کہنا تھا فلیٹ خریدنے کے لئے رقم کہاں سے کہاں گئی کسی کو پتہ نہیں۔ حسین نواز نے 74 کروڑ روپے نواز شریف کو 5 سال میں بھیجے اور اس پر ٹیکس نہیں دیا تاہم ہمارے خیال میں 74 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کر کے بھیجے گئے۔ مریم نواز زیر کفالت تھیں یا نہیں اب دیکھتے ہیں ان کا جواب کیا آتا ہے۔ عمران نے پانامہ کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا سماعت میں واضح ہو گیا تحریک انصاف کے وکلاءنے پوری تیاری کی ہوئی تھی ۔ عمران نے کہا سپریم کورٹ کے پاس اب اتنا مواد آگیا ہے کہ وہ پانامہ کیس کا فیصلہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا بہتر احترام کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ 9 ماہ سے لٹکے ہوئے معاملے کا فیصلہ موجودہ بنچ ہی کرے تاکہ ملک پانامہ کیس سے نکل کر آگے بڑھ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…