جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

’مودی سرکار‘ نے کس طرح چال چلتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ سے باہر کروا دیا؟

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی (آئی این پی)پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم جونیئر ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرسکے گی جو آٹھ دسمبر سے انڈیا کے شہر لکھنومیں منعقد ہو رہا ہے۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کی جگہ ملائیشیا کو اس عالمی مقابلے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے جونیئر عالمی کپ میں شرکت کی تصدیق کی آخری تاریخ 28 نومبر مقرر کی تھی۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنی شرکت کی آخر وقت تک تصدیق نہیں کی۔
اس ضمن میں متعدد بار پاکستان ہاکی فیڈریشن سے رابطہ بھی کیا گیا۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے ویزے میں تاخیر کی ذمہ داری بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن پر عائد کر دی ہے کہ اس نے مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد ویزوں کے لیے درخواست دی تھی۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے اس صورتحال کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے حکومت پاکستان کی جانب سے جونیئر ٹیم انڈیا بھیجنے کی اجازت ملنے کے بعد 24 اکتوبر کو ویزوں کے لیے پاسپورٹ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن میں جمع کرادیے تھے لیکن تاحال ویزے جاری نہیں کیے جا سکے۔
ظاہر ہے ویزے نہ ملنے کی صورت میں شرکت کی تصدیق کیسے ممکن ہے؟غورطلب بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے موجودہ صدر انڈیا سے تعلق رکھنے والے نریندر بٹرا ہیں جو حال ہی میں ایف آئی ایچ کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور پاکستان ہاکی فیڈریشن نے صدر کے انتخاب میں ان کی حمایت کی تھی۔
نریندر بٹرا نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی جونیئر ٹیم جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لے گی لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم جونیئر عالمی مقابلے میں حصہ نہ لے سکی تو اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کر لیا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں انڈیا ہاکی کے عالمی مقابلوں کی میزبانی تواتر سے کر رہا ہے۔گذشتہ جونیئر ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ بھی 2013 میں انڈیا کے شہر نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔انڈیا 2010 میں سینئر ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے بعد 2018 میں دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی اپنے یہاں کرے گا۔
انڈیا نے دو سال قبل چیمپئنز ٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ کی میزبانی بھی کی تھی جس کے دوران پاکستانی کھلاڑی شائقین کے ساتھ تنازعے میں الجھ پڑے تھے جس نے انڈین ہاکی فیڈریشن کو چراغ پا کر دیا تھا اور اس نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو انڈین ہاکی لیگ میں کھیلنے کے لیے نہیں بلایا جائے گا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے سبب پاکستان کے لیے انڈیا میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں شرکت آسان نہیں رہی ہے۔ گذشتہ ماہ پاکستانی کبڈی ٹیم بھارت میں ہونے والے کبڈی ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم رہی تھی کیونکہ انڈین حکومت نے اسے کلیئرنس نہیں دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…