جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ٹیم تھکاوٹ کی وجہ سے ہاری،مکی آرتھر،مصباح نے سچ بتاکرقوم سے معافی مانگ لی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

شارجہ (این این آئی)قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غلطیاں کرتے چلے گئے جس کے سبب مہمان ٹیم کے خلاف ناقابل شکست رہنے کا نادر موقع گنوا دیا۔مصباح الحق نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میچ میں شکست مایوس کن ہے، مجموعی طور پر ہم نے اپنے معیار کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا، ہماری بیٹنگ اور فیلڈنگ بہت بری تھی۔ویسٹ انڈیز نے ڈسپلن سے کھیلا اور ہم غلطیاں کرتے چلے گئے اور ہار گئے۔ موزوں کنڈیشنز میں خود سے انتہائی نچلی درجے پر موجود ٹیم سے ٹیسٹ میچ ہارنا زیادہ بڑا دھچکا ہے۔ حریف ٹیم چاہے کتنا ہی اچھا کھیلے لیکن آپ کو اس کے بعد انتہائی مضبوطی کے ساتھ میچ میں واپسی کی ضرورت ہوتی ہے۔چوتھے دن کے کھیل کے بعد گرین شرٹس کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سیریز کی طوالت کے سبب کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کو قرار دیا تاہم مصباح الحق نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ

سیریز جیتنے کے بعد کھلاڑی مطمئن ہو گئے تھے جب آپ کی سیریز زیادہ طویل ہو تو آپ مطمئن ہو جاتے ہیں اور میرے خیال میں ہمارے ساتھ بالکل یہی ہوا۔ ہم نے ممکنہ طور پر مخالف ٹیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے ابتدائی میچوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور تیسرے میچ میں زیادہ غلطیاں کیں۔ہماری ذہن میں ایک ہی چیز تھی کہ ہر میچ کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب آپ عالمی نمبر ایک یا نمبر دو ٹیم ہوتے ہیں تو آپ کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے ہر میچ ایک خاص معیار کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے۔مصباح نے کہا کہ اگلی سیریز سے قبل ہمیں سمجھنا ہو گا کہ وہ کتنی مشکل ہوں گی، ہما جانتے ہیں کہ ہم جیت سکتے ہیں اور ہم میں دنیا میں کسی بھی جگہ میچ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے سلپ میں کیچ چھوٹنے پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر کہا کہ سلپ میں کیچ پکڑنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا اور ایسا صرف وہ کہہ سکتے ہیں جنہوں نے کرکٹ نہ کھیلی ہو۔ سلپ کے کیچ کبھی آسان نہیں ہوتے اور حتیٰ کہ بہترین فیلڈرز بھی کیچ ڈراپ کر دیتے ہیں۔پاکستان کو ٹیسٹ سیریز کے دوران ٹیم کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پرا جہاں مسلسل ناکامی کے باوجود محمد نواز کو مواقع فراہم کیے جاتے رہے لیکن مصباح نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم ساتویں نمبر کیلئے ایک آل راؤنڈر تیار کرنا چاہتے ہیں جیسے ویسٹ انڈیز کے پاس جیسن ہولڈر موجود ہے۔ یہ نواز کی پہلی سیریز تھی اور وہ بہت محنت کر رہے ہیں لہٰذا انہیں کچھ وقت درکار ہے۔قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے دوسری اننگز میں ذوالفقار بابر سے محض چار اوور کرانے کا ذمے دار شارجہ کی وکٹ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب ان گراؤنڈز مین سے لیں جنہں نے وکٹ بنائی، اگر گیند پانچویں دن بھی ٹرن نہیں ہو گی تو ہم اسپنرز سے کیسے گیند کرا سکتے ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…