جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سلمان بٹ کیلئے خوشخبری۔۔۔! انضما م الحق نے بڑی شرط رکھ دی

datetime 19  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( آن لائن )قومی چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کرنے کی کلیئرنس ہے، مگر ابھی وہ پوری طرح ردھم میں نہیں آئے ہیں۔تقریباً ایک سال تک ان کی کارکردگی کا جائزہ لے کر پھر فیصلہ کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سلیکٹر نے کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل پر اب کوئی پابندی نہیں ، یہ دونوں ہمارے مستقبل کے پلان کا حصہ ہیں۔شاہد آفریدی کو آخری میچ دینے کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا یافتہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے کہا تھا کہ دوبارہ کرکٹ کھیلنے کاموقع ملنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کا شکرگزار ہوں،میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے کسی فرنچائز کی نمائندگی کرنے کا موقع ملے،اگر میں پی ایس ایل میں میچز جتوانے میں کامیاب رہتا ہوں تو پھر میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتا۔ایک انٹر ویو میں سلمان بٹ نے حال ہی میں ختم ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی کپ میں سلو اسکورنگ ریٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر غور کریں تو اس صورتحال میں میرے پاس آہستہ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہم اپنی پوری مڈل آرڈر بیٹنگ لائن سے محروم ہو چکے تھے۔میرے اور طلعت کے بعد بیٹنگ لائن میں صرف بالرز بچے تھے۔ آپ ایسی صورتحال میں کیا کر سکتے تھے۔ مصباح الحق گزشتہ کچھ سالوں سے ایسا کر رہے ہیں اور ان پر ٹک ٹک کی چھاپ لگ چکی ہے۔سلمان بٹ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں میں بلے بازوں کو درپیش مشکلات حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر کی حیثیت سے ہمیں کنڈیشنز دیکھ کر کھیلنا پڑتا ہے۔ جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو جانا بہت آسان تھا لیکن میں ٹیم کیلئے وہاں کھڑا رہا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے لمبی اننگ کھیلنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔بائیں ہاتھ کے بلے باز نے سوال کیا کہ ناقدین اس وقت کہاں تھے جب انہوں نے راولپنڈی میں لاپور بلوز کیلئے کھیلتے ہوئے 152 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنائے۔سلمان بٹ نے ڈومیسٹک سطح پر سلو اور غیر معیاری وکٹوں کو پاکستانی بلے بازوں کے سلو اسٹرائیک ریٹ کی وجہ قرار دیا۔ جدید دور کی کرکٹ میں وہی بلے باز کامیاب ہیں جو خود کو صورتحال کے مطابق ڈھال سکے۔آئی پی ایل میں اوسط اسکور تقریباً 170 رنز ہے۔ ہم نے پی ایس ایل میں انہی بلے بازوں کو سائن کیا لیکن وہ شارجہ اور دبئی میں تیار کی گئی وکٹوں کی وجہ سے کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ آپ نے دیکھا کہ کرس گیل بھی ناکام رہے کیونکہ جب وہ بیٹنگ کیلئے آتے تو مخالف ٹیم اسپنرز متعارف کرا دیتی تھی۔تاہم سابق کپتان نے قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں پی ایس ایل میں میچز جتوانے میں کامیاب رہتا ہوں تو پھر سوا ل یہ ہوگا کہ میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتا۔ آپ کو مجھ سے اچھی کارکردگی کی توقع رکھنی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہوں گا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…