جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اگر ٹرپل سنچری پاکستا ن میں بناتا تو ۔۔۔! اظہر علی نے ناقابل یقین بیان دیدیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016 |

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ویسٹ انڈیز کیخلاف پہلے ڈے اینڈ نائیٹ ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری سکور کرنے والے اظہر علی نے کہا کہ اگر یہ ٹرپل سنچری میں پاکستان میں کرتا تو میرے جذبات ہی کچھ اور ہوتے ۔ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ اور تیسرے ون ڈے میں سنچری نے اظہر علی کو جو اعتماد فراہم کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ فارمیٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے کریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یاد رہے ان سے قبل حنیف محمد، انضمام الحق اور یونس خان جیسے قد آور بیٹسمینوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا اور ظاہر ہے کہ اظہر علی اپنا نام ان عظیم بیٹسمینوں کے ساتھ لکھے جانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ٹرپل سنچری روز روز نہیں بنتی ہے اور جن کرکٹرز نے ابتک یہ کارنامہ انجام دیا ہے وہ ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ میرا نام بھی ان ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ لکھا جائے گا،اظہر علی کے بین الاقوامی کریئر میں یونس خان کا اہم کردار رہا ہے جنھوں نے ان کی ہمیشہ رہنمائی کی ہے۔ اظہر علی نے کہا کہ ‘یونس بھائی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے ڈریسنگ روم میں ان کی غیر موجودگی میں انہی کی نشست سنبھالی تھی اور یہ سوچ رہا تھا کہ اس نشست کی عزت رکھنی ہے۔یہ اسی کا اثر بھی تھا کہ میں نے بھی یونس بھائی کی طرح بڑی اننگز کھیل ڈالی جس طرح وہ سنچری کے بعد اپنی اننگز کو بڑے سکور تک لے جاتے ہیں۔،اظہر علی کو اپنی ٹرپل سنچری کے دوران دو مواقع ملے جب 17 اور 190 پر ان کے کیچز ڈراپ ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں قسمت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے،وکٹ کتنی ہی بیٹنگ کے لیے سازگار ہو آپ کو اتنی بڑی اننگز کے لیے خوش قسمتی بھی درکار ہوتی ہے۔ ڈبل سنچری سکور کرنا بہت مشکل ہے تو پھر آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ٹرپل سنچری کتنی مشکل ہو گی کیونکہ آپ بار بار اپنے کریئر میں 270 یا 280 تک نہیں پہنچ پاتے لہٰذا میری دعا تھی کہ میں اس سنگ میل تک ضرور پہنچ جاؤں،اگر میں یہ ٹرپل سنچری پاکستان میں بناتا تو میرے جذبات کچھ اور ہی ہوتے۔ ہو سکتا ہے وہاں کراؤڈ یہاں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا لیکن ٹرپل سنچری کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…