اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ہم پاکستان پر چڑھائی کرنے ہی والے تھے کہ ہمارے وزیر اعظم نے ۔۔۔۔! بھارتی آرمی چیف نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی ہنس پڑیں گے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نئے شوشے چھوڑنے کے ماہر ملک بھارت نے کہا ہے کہ ہم پاکستان پر 1999میں حملہ کرنے والے تھے مگر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ہمیں جنگ سے روک دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ وی پی ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ 1999ءمیں بھارتی افواج نے پاکستان میں داخل ہونے کو تیار کہ اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے عالمی دبائو پر انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ایک تقریب سے خطاب میں جنرل (ر) وی پیملک نے بڑھک لگائی کہ بھارت کو پاکستان پر دبائوکے لئے عالمی برداری کی منتوں کے بجائے اس پر یہ واضح کردینا چاہیے کہ اگر پاکستان دہشتگردوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو بھارت کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ نا معقول قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے مقامی اخبار نے چینی ریسرچ فیلو ہوڑیونگ کا انٹر ویوکیا جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں اڑی واقعے کی اب تک جامع تحقیقات نہیں ہوئی جبکہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اڑی واقعے کے پیچھے پاکستان نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ نامعقول ہے اور یہ پاک بھارت باہمی تعلقات کے لیے دھچکا ثابت ہو گا۔ہوڑ یونگ نے مزید کہا کہ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ سرد جنگ کی ذہنیت کا عکاس ہے
دوسری جانب پاکستان سے سرحدی کشیدگی کے باعث بھارتی فوج پر اسلحے اور لاجسٹکس کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی یونٹس کو چھوٹے اسلحے اور گولہ بارود کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بعض معاملات میں تو سرحدی یونٹس کے پاس اتنا اسلحہ اور گولہ بارود بھی نہیں کہ بھرپور سرحدی کشیدگی کے دوران تین چار دن بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ ایسے میں اگر فل سکیل جنگ چھڑجائے تو بھارتی فوج کے لئے انتہائی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔ٹائمز آف انڈیا گروپ آف پبلی کیشنز کے تحت شائع ہونیو الے ’’اکنامک ٹائمز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حکام اور وزارت دفاع کیا یگزیکٹوز نے بتایا کہ حکومت نے اسلحہ تیار کرنے والے اداروں اور سپلائرز کو اضافی اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کے لئے بھرپر الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…