اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ایران بحیرہ روم تک محفوظ گذرگاہ کے لیے جدوجہد کررہاہے، یورپی یونین کا انکشاف

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( ما نیٹرنگ ڈیسک)یوریی یونین نے کہاہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے ایرانی ملیشیاؤں کو موصل کے معرکے سے باہر رکھنے کی یقین دہانیاں اچھے ارادوں سے نہیں تھیں اب ایسا نظر آرہا ہے کہ بغداد ایک متبادل منصوبے پر کام کررہا ہے جو ایران کو موصل کے گرد رہ کر اور اس کو شام سے مربوط کرنے کے راستے شہر پر کنٹرول رکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک یورپی ذمہ دار نے برطانوی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ علاقے میں ایران کی عسکری کارروائیاں عراقی ذمہ داران اور شامی حکومت کے ساتھ کوآرڈی نیشن سے کئی برسوں سے جاری ہیں۔یورپی ذمہ دار کے مطابق ایران کئی برس سے بحیرہ روم تک گذرگاہ بنانے پر کام کر رہا ہے جو عراقی اور شامی اراضی کے ذریعے وہاں تک پہنچے۔ اس کا مقصد ایرانی دارالحکومت کو ایسے بحری دروازے سے جوڑنا ہے جو بحیرہ ابیض تک پھیلا ہوا ہو اور اس کے ذریعے تہران اور یورپ کے درمیان رکاوٹیں ختم ہوجائیں۔اسی سلسلے میں ایرانی ملیشیاؤں نے عراق کے وسط اور مشرق میں سنی عربوں کے متعدد علاقوں پر اپنا کنٹرول پھیلا دیا۔ اس اقدام کے لیے “داعش” تنظیم کے خلاف لڑائی کو حجت بنایا گیا۔ یورپی ذمہ دار کے مطابق اس طرح ایران کے سامنے سے بحیرہ روم تک گذرگاہ بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹ گئیں جو کہ عراق کے صوبے دیالی سے شروع ہوگی۔ اس کے بعد یہ صلاح الدین صوبے سے گزر کر موصل پہنچے گی۔یورپی ذمہ دار نے باور کرایا کہ عراقی حکومت اور پاپولر موبیلائزیشن کی ملیشیاؤں کے پاس موصل کے مغرب میں فرقہ وارانہ عناصر کو متعین کرنے کے منصوبے موجود ہیں جس کے لیے بظاہر “داعش” کے ارکان کو شام کی جانب فرار سے روکنے کا نام لیا جائے گا۔ تاہم عملی طور پر شام کے ساتھ سرحدی علاقوں میں ایرانی گذرگاہ کو محفوظ بنایا جائے گا۔بحیرہ روم کی جانب ایرانی گذرگاہ موصل شہر سے اپنا راستہ شامی حکومت اور کردوں کے ساتھ معاہدے کے بعد الحسکہ ، الرقہ اور حلب کے ذریعے مکمل کرے گی۔ یورپی ذمہ دار کا کہنا تھا کہ حلب سے یہ ایرانی گذرگاہ ساحلی شہر اللاذقیہ کے راستے طرطوس کی جانب جائے گی۔اس طرح ایران عراقی اور شامی حکومت کی مدد سے ایک محفوظ گذرگاہ کو یقینی بنا سکتی ہے جو اس کے لیے بحیرہ روم کے راستے سامان اور اسلحے کی منتقلی کو آسان بنا دے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…