منگل‬‮ ، 21 اپریل‬‮ 2026 

بھارت کا پاکستان کیخلاف جنگی جنون ،امریکہ میدان میں کود پڑا۔۔ ایسا بیان دے ڈالا کہ جان کر آپ کے غصے کی انتہا نہیں رہے گی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک بھارت کشیدگی آئے روز بڑھتی جارہی ہے ہر آنے والا دن ایک نئی خبر لے کر آرہا ہے ، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی پے درپے خلاف ورزی کے باوجود بھارت کے بڑ ے اتحادی ملک امریکہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحدوں پر سرجیکل اسٹرائیک کا ہمیں کوئی علم نہیں اور نہ ہی تصدیق ہمیں کرنی ہے۔ پاکستان اوربھارت کو بتانا ہے کہ اس میں ان کا کیا کردارتھا، ایٹمی ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ میزائل صلاحیتوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں محتاط رہیں یہی پاکستانی حکام کیلئے ہمارا براہ راست پیغام ہے، پاک بھارت کشیدہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی درخواست ہے، پاکستانی اور بھارتی افواج آپس میں رابطے میں ہیں ہمارا خیال ہے کہ ان کے درمیان بات چیت سے کشیدگی میں کمی آئیگی، رابطوں میں خلل نہیں چاہتے، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روزامریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے معمول کی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاک بھارت کشیدہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی درخواست ہے، انھوں نے کہا کہ مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کی تصدیق ہمیں نہیں کرنی، پاکستان اوربھارت کو بتانا ہے کہ اس میں ان کا کیا کردارتھا۔
ٹونر نے کہا کہ پاکستانی اور بھارتی افواج آپس میں رابطے میں ہیں،اور ہمارا خیال ہے کہ ان کے درمیان بات چیت سے کشیدگی میں کمی آئے گی، رابطوں میں خلل نہیں چاہتے، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحدپاردہشت گردی سے خطے کولاحق خطرات پر تشویش ہے، لشکرطیبہ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی پرزوردیتے رہے ہیں۔مارک ٹونرنے بھارت کے مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے پر تبصرے سے ایک بار انکار کردیااور کہا کہ دونوں ممالک سیاعلیٰ ترین سطح پررابطے میں ہیں، مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کی تصدیق ہمیں نہیں کرنی، پاکستان اوربھارت کو بتانا ہے کہ اس میں ان کا کیا کردارتھا۔بھارتی جارحیت پر پاکستان کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے سوال پر مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ایٹمی ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ میزائل صلاحیتوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں محتاط رہیں۔ یہی پاکستانی حکام کے لیے ہمارا براہ راست پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑی واقعے سے پہلے جان کیری اور سشما سوراج کے درمیان رابطہ ہوا تھا، پاک بھارت کشیدگی پر تشویش ہے، نہیں چاہتے کہ کشیدگی آگے بڑھے، اس حوالے سے جان کیری بھارتی قیادت سے رابطے میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…