ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

صدرآزادکشمیرمسعود خان چھاگئے،امریکہ میں بڑا کام کردکھایا

datetime 27  ستمبر‬‮  2016 |

واشنگٹن ڈی سی (این این آئی)صدرآزادکشمیرمسعود خان چھاگئے،امریکہ میں بڑا کام کردکھایا،دنیابھر میں بھارت کا بھانڈہ پھوڑ دیا،صدر آزاد کشمیر نے غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے مدلل جوابات دیئے ۔ پریس کانفرنس میں واشنگٹن ٹائمز ، این بی سی ، سی این این ، فاکس نیوز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں نے شرکت کی اور جنوبی ایشیاء کی تازہ ترین صورتحال ، مقبوضہ کشمیر کے حالات اور پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے سوالات کئے ۔صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب دلائی ہے۔ عالمی برادری خصوصاًامریکا پر زور دیا کہ آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف جاری بھارتی ظلم و استبداد بند کروایا جائے ،سینکڑوں کشمیریوں کے قتل عام سینکڑوں کو نابینا بنانے اور 10 ہزار افراد کی بلا تفریق زخمی کرنے پر عالمی برادری کی بے حسی پر قابل افسوس ہے ۔نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود نے عالمی برادری کو اس کی ذمہ داری یاد لاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کا وعدہ پورا کیا جائے ۔ جو اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادوں میں تسلیم کیا گیا ہے ۔ اور پاکستان اور ہندوستان نے ان سے مکمل اتفاق کیا تھا ۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے ۔ کیونکہ وہ مضبوط نظریاتی و سیاسی روایات کا امین ، انسانی حقوق اور قومی آزادی کا احترام کرنے والا ملک ہے ۔ صدر مسعود خان نے پاکستان پر دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے بھارتی الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا رکھی ہے ۔ جس میں بجلی کا کرنٹ چھوڑ ا گیا ہے ۔ کسی انسان کے لیے اس باڑ کو عبور کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے خلاف بھارت ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے ۔ لیکن اس نے دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی سے ہٹانے کے لیے پاکستان پر اُڑی حملے کا بے بنیاد اور من گھڑت الزام عائد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف اور صرف کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت کر رہا ہے ۔ جس کا وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق پابند ہے ۔صدر مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار اور دیر پا امن کا قیام ممکن نہیں ہے ۔ بھارت وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے خلاف ریمارکس کے حوالے سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے ہندوستان کے تنگ نظری پر مبنی موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے اندورونی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا صوبہ ہے ۔ جبکہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ۔ ان دونوں کا کسی بھی صورت میں موازنہ نا قابل قبول ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی یا لڑائی جھگڑے کی علامت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے ۔ کشمیری جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے داعی بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت سے باز رکھے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خود ارادیت دلانے کے لیے ان کی مدد کی جائے ۔ صدر آزاد کشمیر نے غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے مدلل جوابات دیئے ۔ پریس کانفرنس میں واشنگٹن ٹائمز ، این بی سی ، سی این این ، فاکس نیوز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں نے شرکت کی اور جنوبی ایشیاء کی تازہ ترین صورتحال ، مقبوضہ کشمیر کے حالات اور پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے سوالات کئے ۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر صدر آزاد کشمیر نے تمام صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ کشمیری قوم کی آواز دنیا کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ہماری مدد کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…