کراچی (آئی این پی )ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو ہٹائے جانے کے بعد سندھ پولیس میں گروپ بندی شدت اختیار کرگئی۔ ایم کیوایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کے گھر چھاپے اور ان کی گرفتاری کے بعد معطلی کا سامنا کرنے والے راؤ انوار کے خلاف کارروائی پر سندھ پولیس کے اعلی افسران میں گروپ بندی شدید ہوگئی۔پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رینکرز افسران راؤ انوار کی حمایت کررہے ہیں اور ان کی دوبارہ مذکورہ عہدے پر تعیناتی کے لیے سرگرم ہوچکے ہیں، ان افسران کو چند سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب پی ایس پی افسران راؤ انوار کی مخالفت کررہے ہیں اور ان افسران نے راؤ انوار کو ایس ایس پی ملیر کے عہدے سے ہٹانے کی بھی کئی کوششیں کی تھیں تاہم وہ ناکام رہے تھے۔ واضح رہے کہ راؤ انوار 1982 میں محکمہ پولیس میں اے ایس آئی کے عہدے پر بھرتی ہوئے تھے اور پھر ترقی کرتے ہوئے ایس ایس پی کے عہدے تک جاپہنچے تھے۔ انہیں سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل نے 2008 میں ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ راؤ انوار 8 سال کی تعیناتی کے دوران تیسری بار معطل ہوئے ہیں۔
ماضی میں کون سے پولیس افسران راؤ انوار کو ہٹوانے کی کوشش کرتے رہے؟ تہلکہ خیز انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا



















































