اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

خواجہ اظہار کی گرفتاری ،فاروق ستار کے صبر کا پیمانہ لبریز، سیاسی وعسکری قیادت کو انتباہ ،بڑ ے اقدا م کا اعلان

datetime 16  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی) خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ اور ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ یہ سارا عمل ایم کیو ایم اور مہاجر دشمنی ہے ، سیاسی وعسکری قیادت بتائے آخروہ کیا چاہتی ہے ۔خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایس ایس پی ملیر را ؤانوار نے کہا کہ 12 مئی کے ملزمان خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپے کے وقت گھر میں ایک بھی مرد موجود نہیں تھا، پولیس نے خواتین اہلکاروں کے بغیر گھر میں چھاپہ مار کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس طرح کے چھاپوں سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ ایم کیو ایم کو لندن سے چلانے کا نہیں بلکہ ایم کیو ایم اور مہاجر دشمنی ہے، خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپے سے زیادہ پارلیمانی توقیری ہو ہی نہیں سکتی۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ مجھے وارنٹ گرفتاری دکھا دیں پھر بے شک انھیں لے جائیں تو پولیس حکام کا کہنا تھا کہ وارنٹ گرفتاری ہمارے پاس موجود ہیں لیکن ہمیں دکھائے نہیں گئے۔ انھوں نے کہا کہ خواجہ اظہار کل تک مطلوب نہیں تھے اور آج گرفتار ہو گئے، سیاسی وعسکری قیادت بتائے کہ آخر وہ کیا چاہتے ہیں اس ذلت سے تو بہتر ہے کہ ہم سب ارکان اسمبلی اورسینیٹرز،میئر، ڈپٹی میئر اورہمارے تمام ضلعی چیرمین و وائس چیرمین اجتماعی گرفتاری دے دیں اور ہم اس کے لئے تیار ہیں لیکن اب کراچی کے شہری مزید ذلت برداشت نہیں کر سکتے، ہم نمازیں بخشوانے گئے تو روزے بھی ہمارے گلے پڑ گئے، لا پتہ ساتھیوں کا کچھ پتہ نہیں ہے اور ہمارے درجنوں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ خواجہ اظہار کے گھر پر چھاپے کا نہ تو وزیراعلی سندھ کو پتہ تھا اور نہ ہی آئی جی پولیس کو واقعہ کا علم تھا، راؤ انوار کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹوزرداری اور آصف زرداری کے خاص آدمی ہیں، تو ہمیں بتایا جائے کہ پیپلز پارٹی کراچی سے چل رہی یا دبئی و امریکا سے چلائی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…