جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پہلے عشق خدا ہوا کرتا تھا

datetime 25  فروری‬‮  2015 |

بھارت کے معروف گلوکار اور موسیقار روپ کمار راٹھور کا خیال ہے کہ گیتوں اور نغموں میں بھدے اور بھونڈے الفاظ کا استعمال نہیں ہونا چاہیے روپ کمار راٹھور کلاسیکی موسیقی کے اہم ستون تسلیم کیے جاتے ہیں۔ وہ پنڈت چتربھج راٹھور کے بیٹے اور شرون راٹھور (ندیم شرون کی جوڑی والےشرون) اور گلوکار ونود راٹھور کے بھائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے دور میں محبت اور عشق کو خدا مانا جاتا تھا اور آج کل کے گانوں میں عشق کو کمینہ، کتا کہا جاتا ہے جو کہ مجھے برداشت نہیں۔‘ خیال رہے کہ شاہ رخ خان کی فلم ’شکتی‘ میں ایک گیت تھا ’عشق کمینہ۔۔۔‘ انھوں نے مزید کہا: ’عشق کمینہ ہماری ثقافت نہیں ہے۔ ہماری تہذیب میں تو اسے خدا سمجھا جاتا ہے اور آج بھی جب کسی کو اپنے دل کی بات کہنی ہوتی ہے تو وہ غزل یا نظم کا سہارا لیتے ہیں۔‘ راٹھور کو امید ہے کہ جلد ہی غزلوں کا دور واپس آئے گا حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ غزلوں کا دور نہیں ہے۔ آج کل کے زیادہ سے زیادہ گیت نوجوانوں کے لیے ہی بنتے ہیں جو کہ صرف انھیں ہی لبھاتے ہیں۔ غزلیں سننا لوگ پسند نہیں کرتے۔‘ وہ کہتے ہیں: ’اگرچہ کئی گلوکار ہیں جو بہت اچھا گاتے ہیں جیسے ارجيت سنگھ، امت ترویدی لیکن موسیقی کے نئے ذرائع اور سازوں کی وجہ سے تمام نغمے ایک جیسے ہی لگتے ہیں جو کہ شاید نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…