بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر ٗ پاکستان کا یوم آزادی ،وادی پاکستان زندہ باد اور آزادی کے حق میں نعروں سے گونج اٹھی،بھارتی فوج نے جواب میں درندگی کی حدیں پھلانگ دیں

datetime 14  اگست‬‮  2016 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا یوم آزادی منانے کیلئے ہر علاقے میں لوگوں نے کرفیو اور سکیورٹی فورسز کی پابندیاں توڑتے ہوئے پاکستان کے حق میں زبردست ریلیاں نکالیں اور پاکستانی پرچم لہرائے ٗوادی پاکستان زندہ باز اور آزادی کے حق میں نعروں سے گونج اٹھی ٗ بھارتی فورسز نے ریلی کے شرکاء پر طاقت کا وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ٗقابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو لالچوک کی طرف ریفرنڈم مارچ کی قیادت سے روک دیا جبکہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری (آج) پیر کو بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر اور دیگر اضلاع میں اتوار کو مسلسل 37ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں نافذ کرنے کیلئے بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کئے گئے تھے تاہم کلگام، اسلام آباد ، پلوامہ ، بانڈی پورہ اور دیگر اضلاع میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں کرفیو توڑتے ہوئے گھروں سے باہر آئے اورآزادی اور پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے ۔ وادی کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی ٹاورز اور عمارات پر پاکستانی پرچم لہرائے گئے۔ یوم آزادی منانے کے لیے پاکستان کا قومی ترانہ بھی گایا گیا۔ دریں اثناء بھارتی فورسز نے جنوبی کشمیر کے قصبے ترال میں ریفرنڈم مارچ کوناکام بنانے کے لیے خواتین کی ریلی پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اورآنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں دختران ملت کی چےئرپرسن آسیہ اندرابی سمیت درجنوں خواتین زخمی ہوگئیں۔ آسیہ اندرابی ریفرنڈم مارچ کی قیادت کرنے کے لیے ترال پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھیں جس کی کال حریت قیادت نے مشترکہ طور پر دی ہے۔ ایک اور واقعے میں ضلع پلوامہ کے علاقے ملنگپورہ میں بھارتی فورسز نے ایک ریلی کے شرکاء پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے ایک درجن افراد کو زخمی کردیا۔یہ ریلیاں ریفرنڈم مارچ کے طور پر نکالی گئی تھیں ۔قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو لالچوک کی طرف ریفرنڈم مارچ کی قیادت سے روک دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ اپنی اپنی رہائشگاہوں کے باہر آکر احتجاجی دھرنا دیا۔دھرنوں کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’گو انڈیا گو بیک‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ بعدمیں جب میرواعظ نے لالچوک کی طرف مارچ کی کوشش کی توبھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کرکے نگین تھانے میں نظربند کردیا۔ ادھرکنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری (آج) پیر کو بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے تاکہ عالمی برادری کو یہ پیغام پہنچایا جائے کہ بھارت نے کشمیریوں کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت سلب کررکھا ہے۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی ۔تنازعہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں اور معصوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے مقبوضہ علاقے اور مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے اور دیگر تقریبات ہوں گی۔مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشیدترابی کی قیادت میں مظفر آباد سے چکوٹھی تک مارچ ہوگا۔برلن میں کشمیر کونسل یورپی یونین نے کشمیریوں کی حمایت کے لیے دس لاکھ افراد کے دستخط حا صل کرنے کی مہم کے سلسلے میں ایک روزہ کیمپ منعقد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…