ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آج سے 20ہزار سال پہلے جزیرہ نمائے عرب میں انسان۔۔ انسانی تاریخ کا ایسا پہلو سامنے آگیا کہ آپ بھی پڑھ کر چونک اٹھیں گے

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لندن یارک شائرکی یونیورسٹی آف ہڈرزفیلڈ میں آثاری جینیات (آرکیو جنیٹکس) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں انسانی آبادی آج سے 20 ہزارسال پہلے بھی موجود تھی۔ ماہرین نے یہ نتیجہ مائٹوکونڈریا میں پائے جانے والے ڈی این اے کی ایک خاص قسم R0a کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد اخذ کیا ہے۔ ڈی این اے کی یہ قسم انسانی ارتقاء کو سمجھنے سے لے کر کسی علاقے میں انسانی آبادیوں کی درست قدامت تک کے تعین میں بہت مددگارثابت ہورہی ہے۔ نیچر’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ میں شائع شدہ، اس تحقیقی مقالے کی مرکزی مصنفہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کے لوگوں میں مذکورہ مائٹوکونڈریائی ڈی این اے کی بڑی تعداد موجود ہے؛ جس میں تغیرات (mutations) کے تفصیلی اور محتاط مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ 20 ہزار سال قدیم ہے۔ آج سے 20 ہزار سال پہلے کے زمانے میں، جسے ’’گزشتہ برفانی عہد‘‘ (Last Glaciation) کا عروج بھی قرار دیا جاتا ہے، زمین کے بیشتر علاقوں پر برف کا راج تھا۔ البتہ اتنے شدید سرد حالات میں بھی کچھ علاقے ایسے ضرور تھے جہاں کا ماحول نسبتاً گرم تھا اور جو انسانی آبادیوں کے لیے مناسب تھے: یہ برفانی عہد میں انسانی ’’پناہ گاہیں‘‘ (refugia) تھیں۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیرہ روم کی ساحلی پٹی سمیت، سرزمینِ عرب کے جنوبی علاقوں میں انسانی آبادی موجود تھی۔
قبل ازیں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سرزمینِ عرب پر اوّلین انسانی بستی، برفانی عہد ختم ہونے اور زراعت ایجاد ہوجانے کے بعد وجود میں آئی، جو آج سے تقریباّ 10 ہزار سے 11 ہزار سال پہلے کا زمانہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ عرب میں انسان کی آمد، افریقا کے بالائی علاقوں (قرنِ افریقہ) کے راستے ہوئی تھی۔ نئی تحقیق ان خیالات کے بھی بالکل خلاف جارہی ہے۔ اس کے مطابق، آج سے 15 ہزار سال پہلے جب گزشتہ برفانی عہد کی شدت کچھ کم ہوئی تو سرزمینِ عرب پر بسنے والے انسانوں نے قرنِ افریقہ کا رْخ کیا؛ اور بعد ازاں مشرقِ وسطی کے دوسرے علاقوں میں پھیل گئے۔ اسی کے ساتھ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ شاید ان ہی ’’قدیم ترین عربوں‘‘ کی آئندہ نسلیں اْن علاقوں میں جاکر آباد ہوگئی ہوں جو موجودہ ایران، پاکستان اور ہندوستان میں شامل ہیں :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…