منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

آج سے 20ہزار سال پہلے جزیرہ نمائے عرب میں انسان۔۔ انسانی تاریخ کا ایسا پہلو سامنے آگیا کہ آپ بھی پڑھ کر چونک اٹھیں گے

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لندن یارک شائرکی یونیورسٹی آف ہڈرزفیلڈ میں آثاری جینیات (آرکیو جنیٹکس) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں انسانی آبادی آج سے 20 ہزارسال پہلے بھی موجود تھی۔ ماہرین نے یہ نتیجہ مائٹوکونڈریا میں پائے جانے والے ڈی این اے کی ایک خاص قسم R0a کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد اخذ کیا ہے۔ ڈی این اے کی یہ قسم انسانی ارتقاء کو سمجھنے سے لے کر کسی علاقے میں انسانی آبادیوں کی درست قدامت تک کے تعین میں بہت مددگارثابت ہورہی ہے۔ نیچر’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ میں شائع شدہ، اس تحقیقی مقالے کی مرکزی مصنفہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کے لوگوں میں مذکورہ مائٹوکونڈریائی ڈی این اے کی بڑی تعداد موجود ہے؛ جس میں تغیرات (mutations) کے تفصیلی اور محتاط مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ 20 ہزار سال قدیم ہے۔ آج سے 20 ہزار سال پہلے کے زمانے میں، جسے ’’گزشتہ برفانی عہد‘‘ (Last Glaciation) کا عروج بھی قرار دیا جاتا ہے، زمین کے بیشتر علاقوں پر برف کا راج تھا۔ البتہ اتنے شدید سرد حالات میں بھی کچھ علاقے ایسے ضرور تھے جہاں کا ماحول نسبتاً گرم تھا اور جو انسانی آبادیوں کے لیے مناسب تھے: یہ برفانی عہد میں انسانی ’’پناہ گاہیں‘‘ (refugia) تھیں۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیرہ روم کی ساحلی پٹی سمیت، سرزمینِ عرب کے جنوبی علاقوں میں انسانی آبادی موجود تھی۔
قبل ازیں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سرزمینِ عرب پر اوّلین انسانی بستی، برفانی عہد ختم ہونے اور زراعت ایجاد ہوجانے کے بعد وجود میں آئی، جو آج سے تقریباّ 10 ہزار سے 11 ہزار سال پہلے کا زمانہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ عرب میں انسان کی آمد، افریقا کے بالائی علاقوں (قرنِ افریقہ) کے راستے ہوئی تھی۔ نئی تحقیق ان خیالات کے بھی بالکل خلاف جارہی ہے۔ اس کے مطابق، آج سے 15 ہزار سال پہلے جب گزشتہ برفانی عہد کی شدت کچھ کم ہوئی تو سرزمینِ عرب پر بسنے والے انسانوں نے قرنِ افریقہ کا رْخ کیا؛ اور بعد ازاں مشرقِ وسطی کے دوسرے علاقوں میں پھیل گئے۔ اسی کے ساتھ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ شاید ان ہی ’’قدیم ترین عربوں‘‘ کی آئندہ نسلیں اْن علاقوں میں جاکر آباد ہوگئی ہوں جو موجودہ ایران، پاکستان اور ہندوستان میں شامل ہیں :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…