اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ دھماکہ سول ہسپتال میں اس وقت کیا ہو رہا تھا؟  کسے نشانہ بنایا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 8  اگست‬‮  2016 |
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سول اسپتال کوئٹہ میں دھماکے سے30افراد جاں بحق اور20سے زائد زخمی ہوگئے۔کوئٹہ میں سول ہسپتال میں دھماکے کے وقت وکلاء کی بڑی تعداد ہسپتال میں موجود تھی جو صدر بلوچستان بار کی عیادت کے لئے موجود تھی۔ ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے سول ہسپتال دھماکے میں وکلاء کو نشانہ بنای ہے۔ زخمیوں میں بلوچستان بار کے سابق صدرباز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آوازدور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے صوبائی حکومت کو واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔کوئٹہ کے علاقے منوجان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلاول انور کاسی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے، ان کی میت سول اسپتال لائی گئی تھی ، جس کی وجہ سے وکلا کی بڑی تعداد اسپتال میں موجود تھی کہ اسپتال کی شعبہ حادثات کے بیرونی دروازے پر زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
دھماکے کے نتیجے میں30افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں آج نیوزکا کیمرہ مین بھی شامل ہے، جبکہ ڈان نیوز کے کیمرہ مین اور بلوچستان بار کے سابق صدرباز محمد کاکڑ سمیت 20سے زائد افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔دھماکے کے بعد اسپتال میں افراتفری مچ گئی اورلوگ اپنی جان بچانے ادھر ادھر بھاگنے لگے،اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔سیکورٹی اور ریسکیو ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور اسپتال کے داخلی دروازے بند کرکے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کوواقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار ی کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی کو صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحے کے خلاف ملک بھر میں ایک ہفتے سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…